کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: کلمہ "لا الہ الا اللہ" لوگوں کو آگ سے نجات دلائے گا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد (3) بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن أبي مالك الأشجعيِّ، عن رِبْعيٍّ، عن حُذَيفة قال: قال رسول الله ﷺ: "يَدرُسُ الإسلام كما يَدرُسُ وَشْيُ الثوب، لا يُدرَى ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك، ويُسرَى على كتاب الله ﷿ في ليلةٍ فلا يبقى في الأرض منه آيةٌ، ويبقى طوائفُ من الناس، الشيخُ الكبير والعجوزُ الكبيرة، يقولون: أدرَكْنا آباءَنا على هذه الكلمة: لا إله إلَّا الله، فنحن نقولُها". فقال له صِلةُ: فما تُغْني عنهم لا إله إلَّا الله، لا يَدرُون ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك؟! فأعرضَ عنه حذيفةُ (1)، ثم أَقبل عليه في الثالثة فقال: يا صلةُ، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8636 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام اسی طرح پرانا ہو کر مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں، یہاں تک کہ یہ بھی معلوم نہیں رہے گا کہ روزہ، صدقہ اور حج و عمرہ کی قربانی کیا چیز ہے، اور ایک ہی رات میں اللہ عزوجل کی کتاب کو اٹھا لیا جائے گا تو روئے زمین پر اس کی ایک آیت بھی باقی نہیں رہے گی، اور لوگوں کے کچھ گروہ باقی بچ جائیں گے جن میں بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں ہوں گی جو کہیں گی: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پر پایا تھا، لہٰذا ہم بھی یہی کہتے ہیں۔“ اس پر صِلہ نے ان سے پوچھا: جب وہ روزے، صدقے اور قربانی کے طریقے سے واقف ہی نہ ہوں گے تو یہ کلمہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ان کے کس کام آئے گا؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے رخ موڑ لیا، صِلہ نے پھر سوال کیا یہاں تک کہ تیسری مرتبہ پوچھا تو انہوں نے صِلہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے صِلہ! یہ کلمہ انہیں آگ سے نجات دے گا، یہ انہیں آگ سے بچائے گا، یہ انہیں جہنم کی آگ سے نجات دلائے گا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8850
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)، حيث رواه هناك من طريق أبي كريب محمد بن العلاء عن أبي معاوية» [ترقيم الرساله 8850] [ترقيم الشركة 8740] [ترقيم العلميه 8636]
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن عوف، عن أنس بن سِيرين، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله قال: مضت الآياتُ غيرَ أربعةٍ: الدجالِ، والدابةِ، ويأجوجَ ومأجوجَ، وطلوع الشمس من مَغرِبِها، والآيةُ التي يُختَم بها الشمسُ، ثم قرأ: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ﴾ [الأنعام: 158] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8637 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (قیامت کی بڑی) نشانیاں گزر چکی ہیں سوائے چار کے: دجال، زمین کا جانور (دابۃ الارض)، یاجوج و ماجوج اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، اور وہ نشانی جس کے ساتھ سورج پر (عمل کا دروازہ) ختم کر دیا جائے گا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ﴾ ”کیا وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں؟“ [سورة الأنعام: 158]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8851
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات عن آخرهم إلّا أنه منقطع بين أبي عبيدة وأبيه عبد الله بن مسعود، فإنه لم يسمع منه، مات أبوه وهو صغير» [ترقيم الرساله 8851] [ترقيم الشركة 8741] [ترقيم العلميه 8637]