کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جس نے سورہ کہف کی تلاوت کی، دجال اس پر غالب نہیں آ سکے گا
وأخبرنا بكر بن محمد المَرْوَزي، حدثنا أبو الأحوص القاضي، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثني عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن أبي هاشم، عن أبي مِجلَز، عن قيس بن عُبَادٍ، عن أبي سعيد الخُدْري قال: مَن قرأَ سورةَ الكهف كما أُنزِلَت، ثم خرج إلى الدَّجّال، لم يُسلَّطْ عليه، ولم يكن له عليه سبيل (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8562 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جس نے سورہ کہف کی تلاوت بالکل اسی طرح کی جیسے وہ نازل کی گئی ہے، پھر وہ دجال کے سامنے نکلا، تو دجال اس پر مسلط نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی اس کے پاس اس کے خلاف کوئی راستہ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8774
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل نعيم بن حماد، وقد توبع، واختلف في وقفه ورفعه كما سلف بيانه برقم (2097)، وهو وإن كان الأشهر وقفه على أبي سعيد، إلّا أنَّ له حكم المرفوع، إذ لا مجال للرأي فيه كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" 5/ 39» [ترقيم الرساله 8774] [ترقيم الشركة 8665] [ترقيم العلميه 8562]
أخبرني عَبْدانُ بن يزيد الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفّان، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن سَمُرةَ بن جُندُب، عن النبي ﷺ قال: "تُوشِكون أن يَملأَ اللهُ أيَديكم من العَجَم، فيكونون أُسْدًا لا (2) يَفِرُّون، ويقتلون مُقاتلتَكم، ويأكلون فَيْئَكم (3) " (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8563 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، پھر وہ (میدانِ جنگ میں) ایسے شیر ثابت ہوں گے جو فرار نہیں ہوں گے، وہ تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں گے اور تمہارے اموالِ غنیمت کو کھائیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8775
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وسماع الحسن» [ترقيم الرساله 8775] [ترقيم الشركة 8666] [ترقيم العلميه 8563]
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو بكر بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حَجّاج بن محمد، حدثنا عبد الملك بن قُدَامة الجُمَحي، عن إسحاق بن بكر، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: "سيأتي على الناس سِنُونَ يُصدَّقُ فيها الكاذبُ، ويُكذَّب فيها الصادق، ويُخوَّن فيها الأَمين (1)، ويَنطِقُ فيها الرُّوَيبِضةُ" قال: قيل: يا رسول الله، وما الرُّويبضة؟ قال: "السَّفيهُ يتكلَّم في أمرِ العامَّةِ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8564 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسے دھوکے والے سال آئیں گے جن میں جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کو جھٹلایا جائے گا، امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور ان میں ”رویبضہ“ کلام کرے گا۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ ”رویبضہ“ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بے وقوف اور کم ظرف شخص جو عوام کے (سیاسی و سماجی) معاملات میں گفتگو کرے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8776
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الملك بن قدامة وجهالة إسحاق بن بكر» [ترقيم الرساله 8776] [ترقيم الشركة 8667] [ترقيم العلميه 8564]
قال ابن قُدَامة: وحدثني يحيى بنُ سعيد الأنصاري، عن المَقبُري (3) قال: "وتَشِيعُ فيها الفاحشةُ".
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو من حديث يحيى بن سعيد الأنصاريِّ عن المَقبُري غريبٌ جدًّا.
حافظ طلحہ بابر
ابن قدامہ یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطے سے مقبری سے روایت کرتے ہیں کہ: ”اور اس دور میں بے حیائی و فحاشی عام ہو جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یحییٰ بن سعید انصاری کی مقبری سے یہ روایت انتہائی غریب ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8777
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8777] [ترقيم الشركة 8667]
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا محمد بن محمد بن مرزُوق، حدثنا صالح بن عمر بن شعيب قال: سمعت جدِّي شعيب بن عُمر الأزرق قال: حَجَجْنا فمررنا بطريق المُنكدِر، وكان الناسُ إذ ذاك يأخذون فيه، فضَلَلْنا الطريقَ، قال: فبَيْنا نحن كذلك، إذا نحن بأعرابيٍّ كأنما نَبَعَ علينا من الأرض، فقال: يا شيخُ، تدري أين أنت؟ قلت: لا، قال: أنت بالرَّبائب، وهذا التلُّ الأبيض الذي تراه عِظامُ بكرِ بن وائل وتَغلِبَ، وهذا قبر كُلَيب وأخيه مُهلهِل (1)، قال: فدلَّنا على الطريق، ثم قال: هاهنا رجلٌ له من النبي ﷺ، صُحْبةٌ، هل لكم فيه؟ قال: فقلت: نعم، قال: فذَهَبَ بنا إلى شيخ معصوب الحاجبَين بعِصابةٍ في قُبَّةِ أَدَم، فقلنا له: من أنت؟ قال: أنا العَدَّاءُ بن خالد [ابن] (2) فارسِ الضَّحْياءِ في الجاهلية، قال: فقلنا له: حدِّثْنا رَحِمَك اللهُ عن النبي ﷺ بحديث، قال: كنا عند النبي ﷺ إذ قام قَومةً له كأنه مُفزَّع ثم رَجَعَ، فقال: "أُحذَّرُكم الدَّجّالين الثلاثَ"، فقال ابن مسعود: بأبي أنت وأمِّي يا رسول الله، قد أخبرتَنا عن الدجال الأعوَر، وعن أكذب الكذّابين، فمن الثالث؟ فقال: "رجلٌ يخرجُ في قوم أوّلُهم مَثبورٌ وآخرُهم مَثبور، عليهم اللعنةُ دائبةً، في فتنةِ الجارفة، وهو الدجّال الأكْيَس، يأكلُ عِبادَ الله بآلِ محمدٍ، وهو أبعدُ الناس من سُنَّتِه" (3). من شرط الإمام أبي بكر محمد بن إسحاق ﵁ إذا رَوَى حديثًا لا يصحِّحُه أن يقول في راويه (1): قد روي عن فلان وفلان، وأنا لا أعرفُه بعدالةٍ كذى وكذى، وقد خرَّج هذا الحديثَ على شرط الصحيح، وهو القُدْوة في هذا العِلْم (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8565 - الحديث منكر بمرة
حافظ طلحہ بابر
صالح بن عمر بن شعیب اپنے دادا شعیب بن عمر الازرق سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم حج کے لیے نکلے اور مقامِ منکدر والے راستے سے گزرے، ان دنوں لوگ اسی راستے سے جایا کرتے تھے، پس ہم راستہ بھٹک گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اسی کیفیت میں تھے کہ اچانک ایک دیہاتی ہمارے سامنے نمودار ہوا گویا وہ زمین سے نکل آیا ہو، اس نے پوچھا: اے شیخ! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: آپ مقامِ ربائب میں ہیں، اور یہ سفید ٹیلا جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ (قبائل) بکر بن وائل اور تغلب کی ہڈیاں ہیں، اور یہ کلیب اور اس کے بھائی مہلہل کی قبر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر اس نے ہمیں راستہ بتایا اور کہا: یہاں ایک صاحب موجود ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے، کیا آپ ان سے ملنا چاہیں گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ ہمیں ایک بزرگ کے پاس لے گیا جن کی پیشانی پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ چمڑے کے ایک خیمے میں مقیم تھے، ہم نے ان سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں زمانہ جاہلیت میں «فارس الضَّحْياءِ» کے لقب سے مشہور العداء بن خالد ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے عرض کیا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، ہمیں نبی کریم ﷺ کی کوئی حدیث سنائیں، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک آپ ﷺ اس طرح اٹھ کھڑے ہوئے جیسے سخت گھبرا گئے ہوں، پھر آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تمہیں تین دجالوں سے ڈراتا ہوں۔“ اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ﷺ نے ہمیں کانے دجال اور سب سے بڑے جھوٹے کذاب کے بارے میں تو بتا دیا ہے، یہ تیسرا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو ایسی قوم میں ظاہر ہوگا جس کے اول و آخر سب ہلاک و برباد ہونے والے ہیں، ان پر دائمی لعنت ہوگی، وہ فتنہ «الجارفة» (تباہ کن فتنے) کے دور میں ہوگا، وہ سب سے زیادہ چالاک اور مکار دجال ہوگا جو آلِ محمد کے نام پر اللہ کے بندوں کا استحصال کرے گا، حالانکہ وہ آپ ﷺ کی سنت سے سب سے زیادہ دور ہوگا۔“
امام ابوبکر محمد بن اسحاق کا یہ قاعدہ ہے کہ جب وہ ایسی حدیث روایت کریں جسے وہ صحیح نہ سمجھتے ہوں تو اس کے راوی کے بارے میں کہہ دیتے ہیں کہ اس سے فلاں فلاں نے روایت کی ہے اور میں اس کی عدالت و دیانت سے واقف نہیں ہوں، جبکہ انہوں نے اس حدیث کو شرطِ صحیح پر روایت کیا ہے اور وہ اس علمِ حدیث میں مقتدیٰ اور پیشوا ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8778
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرّة لجهالة صالح بن عمر بن شعيب وجدِّه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرّة لجهالة صالح بن عمر بن شعيب وجدِّه، وصالح بن عمر لم نقف له على ترجمة، وأما جده فذكره البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 224 وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 4/ 350» [ترقيم الرساله 8778] [ترقيم الشركة 8668] [ترقيم العلميه 8565]