کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ملکِ شام اللہ کی زمین میں اس کا پسندیدہ اور برگزیدہ خطہ ہے
أخبرني محمد بن عبد الله بن قُرَيش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، أخبرني أبو عائذٍ عُفَير بن مَعْدان، أنه سمع سُليمَ بن عامر الكَلَاعي يحدِّث عن أبي أُمامة الباهلي، أنَّ النبي ﷺ قال: "الشامُ صَفْوةُ الله من بلادِه، يَسُوقُ إليها صَفْوةَ عبادِه مَن خرج من الشام إلى غيرِها فبسَخْطةٍ، ومَن دخلها من غيرها فبِرَحْمة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8555 - كلا وعفير هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شام اللہ کی زمینوں میں سے اس کا منتخب کردہ علاقہ ہے، وہ وہاں اپنے بندوں میں سے برگزیدہ لوگوں کو کھینچ لاتا ہے، پس جو شخص شام سے کسی دوسری جگہ کے لیے نکلتا ہے تو وہ (اللہ کی) ناراضگی کا شکار ہوتا ہے، اور جو کسی دوسری جگہ سے اس میں داخل ہوتا ہے تو وہ (اللہ کی) رحمت کے سائے میں آتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8766
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ من أجل عفير بن معدان
تخریج حدیث «إسناده واهٍ من أجل عفير بن معدان، قال الذهبي في "تلخيصه": هالك» [ترقيم الرساله 8766] [ترقيم الشركة 8658] [ترقيم العلميه 8555]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا بشر بن بكر، أخبرني سعيد بن عبد العزيز، عن مكحول، أنه حدَّثه عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن عبد الله بن حَوَالَة قال: قال رسول الله ﷺ: "ستُجنَّدون أجنادًا: جُندًا بالشام، وجُندًا بالعراق وجُندًا باليمن "قلت: يا رسول الله، اختَرْ لي، قال: "عليكم بالشامِ، فمن أَبى فليَلحَقْ بيَمنِه، ويَسْقِ من غُدُرِهِ، فَإِنَّ الله ﷿ تَكفَّلَ لي بالشامِ وأهلِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8556 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تم کئی لشکروں میں منقسم ہو جاؤ گے: ایک لشکر شام میں، ایک عراق میں اور ایک یمن میں“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میرے لیے کسی ایک کا انتخاب فرما دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر شام لازم ہے، پس جو انکار کرے وہ اپنے یمن سے جا ملے اور اپنے تالابوں سے پانی پیے، کیونکہ اللہ عزوجل نے میرے لیے شام اور وہاں کے بسنے والوں کی کفالت و ذمہ داری لے لی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8767
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8767] [ترقيم الشركة 8659] [ترقيم العلميه 8556]
أخبرني (1) أبو بكر بن قُريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عُفير بن مَعْدان، عن سُليم بن عامر الكَلَاعي، عن أبي أُمامة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أُنزِلَت عليَّ النبوةُ في ثلاثةِ أمكنةٍ: بمكةَ، والمدينةِ، والشام" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر نبوت تین مقامات پر نازل کی گئی: مکہ، مدینہ اور شام میں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8768
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ من أجل عفير بن معدان
تخریج حدیث «إسناده واهٍ من أجل عفير بن معدان، فإنه واهٍ» [ترقيم الرساله 8768]
أخبرني أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدثني أَبي، حدثنا بكر (3) بن مُضَر، عن عَمرو بن الحارث، عن جَميل بن عبد الرحمن الحَذَّاء، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "اللهمَّ لا يُدرِكْني زمانُ - أو لا أُدركُ زمانَ - قومٍ لا يَتبعُون العلمَ، ولا يَستَحْيون من الحليم، قلوبُهم قلوبُ الأعاجم، وألسنتُهم ألسنةُ العرب" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8557 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ لَا يُدْرِكْنِي زَمَانُ - أَوْ لَا أُدْرِكُ زَمَانَ - قَوْمٍ لَا يَتْبَعُونَ الْعِلْمَ، وَلَا يَسْتَحْيُونَ مِنَ الْحَلِيمِ، قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ، وَأَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ.» ”اے اللہ! میں ایسے لوگوں کا زمانہ نہ پاؤں - یا میرا زمانہ ایسے لوگوں کو نہ پائے - جو علم کی پیروی نہیں کرتے، اور کسی بردبار (دانا) شخص سے حیا نہیں کرتے، ان کے دل عجمیوں کے دل (مانند سخت اور بنجر) ہیں جبکہ ان کی زبانیں عربوں کی زبانیں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8769
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة حال جميل الحذاء وانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة حال جميل الحذاء وانقطاعه، فإنَّ جميلًا هذا لا يعرف له سماع من الصحابة، ولما ذكره ابن حبان في أتباع التابعين من "ثقاته" 6/ 147 قال: شيخ يروي المراسيل» [ترقيم الرساله 8769] [ترقيم الشركة 8660] [ترقيم العلميه 8557]
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا موسى بن عُلَيّ بن رَبَاح قال: سمعت أَبي يقول: خرجتُ حاجًّا، فقال لي سليمان (1) بن عِتْر قاضي أهل مصر: أَبلِغْ أبا هريرة منِّي السلامَ، وأعلِمْه أني قد استغفرتُ الغَداةَ له ولأُمِّه، فلَقِيتُه فأبلغتُه، قال: وأنا قد استغفرتُ له، ثم قال: كيف تركتم أمَّ خَنُّور (2)؟ يعني مصرَ، قال: فذكرتُ له من رَفَاغَتِها وعَيشِها، قال: أمَا إنها أولُ الأرض خَرابًا ثم إرمينِيَة، قلت: سمعتَ ذلك من رسول الله ﷺ؟ قال: لا، ولكن حدَّثَني عبدُ الله بن عمرو بن العاص قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "إنها تكون هجرةٌ بعد هجرةٍ لخيارِ الأرض إلى مُهاجَرِ إبراهيمَ، ويبقى في الأرض شِرارُ أهلِها، تَلفِظُهم أرَضُوهم وتَقذَرُهم نفسُ الله، قال: فتَحشرُهم النارُ مع القِرَدةِ والخنازير". وسمعت رسول الله ﷺ يقول: "يخرجُ ناسٌ من قِبَل المشرِق يَقرؤُون القرآن لا يجاوزُ تَراقِيَهم، كلَّما قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قرنٌ، حتى يخرجَ في بقيّتِهم الدَّجَّالُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد اتَّفقا جميعًا بأحاديث موسى بن عُليِّ بن رَبَاح اللَّخْمي (2)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8558 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، موسیٰ بن علی بن رباح کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: میں حج کے ارادے سے نکلا تو مصر کے قاضی سلیمان بن عتر نے مجھ سے کہا: سیدنا ابوہریرہ کو میرا سلام کہنا اور انہیں بتانا کہ میں نے آج صبح ان کے لیے اور ان کی والدہ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے، چنانچہ جب میں ان سے ملا اور انہیں پیغام پہنچایا، تو انہوں نے کہا: میں نے بھی ان کے لیے استغفار کیا ہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم ام خنور (یعنی مصر) کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ میں نے ان کے سامنے وہاں کی فراوانی اور خوشحالی کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: آگاہ رہو! یہ روئے زمین پر سب سے پہلے تباہ ہونے والا خطہ ہوگا، پھر آرمینیا کی باری آئے گی۔ میں نے پوچھا: کیا آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، بلکہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”زمین کے بہترین لوگوں کی ایک ہجرت کے بعد دوسری ہجرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ (ملک شام) کی طرف ہوگی، اور زمین پر صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں ان کی زمینیں اگل دیں گی اور اللہ تعالیٰ ان سے اظہارِ بیزاری فرمائے گا، پھر آگ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ ہانک کر جمع کرے گی“۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: ”مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، جب بھی ان کا ایک گروہ «قَرْنٌ» ختم ہوگا تو دوسرا پیدا ہو جائے گا، یہاں تک کہ ان کے آخری گروہ میں دجال ظاہر ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ ان دونوں نے موسیٰ بن علی بن رباح لخمی کی احادیث کو قبول کرنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے (ان الفاظ کے ساتھ) روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8770
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح المصري كاتب الليث
تخریج حدیث «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح المصري كاتب الليث، وباقي رجاله لا بأس بهم، وقد سلف الحديث بشطريه عند المصنف برقم (8707) بإسناد آخر عن عبد الله بن عمرو يعتبر به في المتابعات والشواهد أيضًا، وانظر تمام تخريجه هناك» [ترقيم الرساله 8770] [ترقيم الشركة 8661] [ترقيم العلميه 8558]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، عن سالم، أنه سمع أبا هريرة يقول: يوشكُ أن يكون أقصى مَسالحِ المسلمين بسَلَاح. وسَلَاح قريبٌ من خيبرَ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”عنقریب مسلمانوں کی آخری فوجی چوکیاں اور سرحدی مقامات مقامِ سلاح تک پہنچ جائیں گے۔“ اور سلاح خیبر کے نزدیک ایک مقام کا نام ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8771
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8771] [ترقيم الشركة 8662]
حدَّثَناهُ علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا محمد بن إسحاق الإمامُ وجعفر بن أحمد الشاماتي، قالا: حدثنا أبو عُبيد الله (1) أحمد بن عبد الرحمن بن وَهْب، حدثنا عمِّي قال: حدثني جَرِير بن حازم، عن عُبيد الله بن عُمر، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يوشكُ المسلمون أن يُحصَروا بالمدينة، حتى يكونَ أبعدَ مَسالحهم سَلَاح" (2). حديث ابن وهب عن جَرير صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ في كتابه ﵀ بأبي عبيد الله ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8560 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں (دشمنوں کی جانب سے) اس طرح محصور کر دیا جائے گا کہ ان کی سب سے دور کی فوجی چوکی مقامِ سلاح ہوگی۔“
ابن وہب کی جریر سے مروی یہ روایت امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں ابوعبید اللہ سے استدلال کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8772
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الرحمن بن وهب، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8772] [ترقيم الشركة 8663] [ترقيم العلميه 8560]
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا سعيد بن سِنان، عن أبي الزاهريَّة، عن كَثير بن مُرَّة، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ سُئِلَ عن طعام المؤمنين في زمن الدَّجّال، قال: "طعامُ الملائكةِ" قالوا: وما طعامُ الملائكة؟ قال: "طعامُهم مَنطِقُهم بالتسبيح والتقديس، فمن كان مَنطِقُه يومئذٍ التسبيحَ والتقديسَ، أَذهَبَ اللهُ عنه الجوعَ فلم يَخْشَ جُوعًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8561 - كلا فسعيد متهم تالف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دجال کے زمانے میں مومنین کی خوراک کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتوں کی خوراک۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ فرشتوں کی خوراک کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا کلام تسبیح اور تقدیس ہے، پس اس روز جس کی گفتگو تسبیح و تقدیس پر مبنی ہوگی، اللہ تعالیٰ اس سے بھوک کی شدت کو دور کر دے گا اور اسے بھوک کا کوئی خوف نہیں رہے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8773
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ من أجل سعيد بن سنان: وهو الشامي
تخریج حدیث «إسناده واهٍ من أجل سعيد بن سنان: وهو الشامي، وقال الذهبي في "تلخيصه": سعيد متَّهم تالف» [ترقيم الرساله 8773] [ترقيم الشركة 8664] [ترقيم العلميه 8561]