حدیث نمبر: 8776
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو بكر بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حَجّاج بن محمد، حدثنا عبد الملك بن قُدَامة الجُمَحي، عن إسحاق بن بكر، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: "سيأتي على الناس سِنُونَ يُصدَّقُ فيها الكاذبُ، ويُكذَّب فيها الصادق، ويُخوَّن فيها الأَمين (1)، ويَنطِقُ فيها الرُّوَيبِضةُ" قال: قيل: يا رسول الله، وما الرُّويبضة؟ قال: "السَّفيهُ يتكلَّم في أمرِ العامَّةِ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8564 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر ایسے دھوکے والے سال آئیں گے جن میں جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کو جھٹلایا جائے گا، امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور ان میں ”رویبضہ“ کلام کرے گا۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ ”رویبضہ“ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بے وقوف اور کم ظرف شخص جو عوام کے (سیاسی و سماجی) معاملات میں گفتگو کرے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8776
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الملك بن قدامة وجهالة إسحاق بن بكر» [ترقيم الرساله 8776] [ترقيم الشركة 8667] [ترقيم العلميه 8564]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) زاد في "تلخيص الذهبي": ويؤتمن فيها الخائن.
تحقیقِ متن: "تلخیص الذہبی" میں یہ اضافہ ہے: "ویؤتمن فیہا الخائن" (اور اس زمانے میں خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا)۔
(2) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الملك بن قدامة وجهالة إسحاق بن بكر.
درجۂ حدیث: حدیث حسن ہے، لیکن یہ سند عبدالملک بن قدامہ کے ضعف اور اسحاق بن بکر کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وقد سلف برقم (8645).
نوٹ: یہ روایت نمبر (8645) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8776 سے ماخوذ ہے۔