حدیث نمبر: 8779
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن رجاءٍ، حدثنا هَمَّام، حدثنا قَتَادة، ابن بُرَيدة، عن أبي سَبْرة الهُذَلي قال: لَقِيتُ عبدَ الله بن عمرو، فحدَّثني حديثًا عن النبي ﷺ، ففهِمتُه وكتبتُه بيدي: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما حدَّثَ عبدُ الله بن عمرو عن محمدٍ رسول الله ﷺ، قال: "إنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ ولا المتفحِّشَ". ثم قال: "والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا تقومُ الساعةُ حتى يَظهرَ الفُحْشُ والتفحُّشُ، وسوءُ الجِوار، وقَطيعةُ الأرحام، وحتى يُخوَّنَ الأمينُ ويُؤتَمنَ الخائن". ثم قال: "إنما مَثلُ المؤمن كمَثلِ النَّحلة، وَقَعَت فأَكَلَت طيِّبًا، ثم سَقَطَت ولم تُفسِدْ ولم تَكسِرُ، ومَثلُ المؤمن كمَثلِ القِطْعة [من] الذهب الأحمر أُدخِلَت النارَ فنُفِخَ عليها، فلم تَغيَّرْ، ووُزِنَت فلم تَنقُصْ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8566 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوسبرہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ملا، تو انہوں نے مجھے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث بیان کی، میں نے اسے بخوبی سمجھا اور اپنے ہاتھ سے لکھا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”یہ وہ (فرمان) ہے جو عبداللہ بن عمرو نے محمد رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ فحش بکنے والے اور بے حیائی کی باتیں کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ فحش گوئی، بے حیائی، برا پڑوس اور رشتوں کو توڑنا عام نہ ہو جائے، اور یہاں تک کہ امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار نہ قرار دیا جانے لگے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، جو بیٹھتی ہے تو پاکیزہ چیز کھاتی ہے، پھر (کسی ٹہنی یا پھول پر) اترتی ہے تو اسے خراب نہیں کرتی اور نہ ہی اسے توڑتی ہے، اور مومن کی مثال سرخ سونے کے اس ٹکڑے کی سی ہے جسے آگ میں ڈالا جائے اور اس پر پھونک ماری جائے تو وہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ ہی وزن کرنے پر اس میں کوئی کمی آتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8779
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وإسناده قابل للتحسين» [ترقيم الرساله 8779] [ترقيم الشركة 8669] [ترقيم العلميه 8566]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) صحيح لغيره، وإسناده قابل للتحسين. وقد سلف برقم (256) من طريق هشام بن علي السيرافي عن عبد الله بن رجاء الغُدَاني.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی سند تحسین کے قابل ہے۔ یہ نمبر (256) پر ہشام بن علی سیرافی کے طریق سے عبداللہ بن رجاء غدانی کے واسطے سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8779 سے ماخوذ ہے۔