المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ باب: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک بے حیائی اور فحش گوئی عام نہ ہو جائے
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن رجاءٍ، حدثنا هَمَّام، حدثنا قَتَادة، ابن بُرَيدة، عن أبي سَبْرة الهُذَلي قال: لَقِيتُ عبدَ الله بن عمرو، فحدَّثني حديثًا عن النبي ﷺ، ففهِمتُه وكتبتُه بيدي: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما حدَّثَ عبدُ الله بن عمرو عن محمدٍ رسول الله ﷺ، قال: "إنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ ولا المتفحِّشَ". ثم قال: "والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا تقومُ الساعةُ حتى يَظهرَ الفُحْشُ والتفحُّشُ، وسوءُ الجِوار، وقَطيعةُ الأرحام، وحتى يُخوَّنَ الأمينُ ويُؤتَمنَ الخائن". ثم قال: "إنما مَثلُ المؤمن كمَثلِ النَّحلة، وَقَعَت فأَكَلَت طيِّبًا، ثم سَقَطَت ولم تُفسِدْ ولم تَكسِرُ، ومَثلُ المؤمن كمَثلِ القِطْعة [من] الذهب الأحمر أُدخِلَت النارَ فنُفِخَ عليها، فلم تَغيَّرْ، ووُزِنَت فلم تَنقُصْ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8566 - صحيحابوسبرہ ہذلی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ملا، تو انہوں نے مجھے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث بیان کی، میں نے اسے بخوبی سمجھا اور اپنے ہاتھ سے لکھا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ”یہ وہ (فرمان) ہے جو عبداللہ بن عمرو نے محمد رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ فحش بکنے والے اور بے حیائی کی باتیں کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ فحش گوئی، بے حیائی، برا پڑوس اور رشتوں کو توڑنا عام نہ ہو جائے، اور یہاں تک کہ امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار نہ قرار دیا جانے لگے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، جو بیٹھتی ہے تو پاکیزہ چیز کھاتی ہے، پھر (کسی ٹہنی یا پھول پر) اترتی ہے تو اسے خراب نہیں کرتی اور نہ ہی اسے توڑتی ہے، اور مومن کی مثال سرخ سونے کے اس ٹکڑے کی سی ہے جسے آگ میں ڈالا جائے اور اس پر پھونک ماری جائے تو وہ نہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ ہی وزن کرنے پر اس میں کوئی کمی آتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی سند تحسین کے قابل ہے۔ یہ نمبر (256) پر ہشام بن علی سیرافی کے طریق سے عبداللہ بن رجاء غدانی کے واسطے سے گزر چکی ہے۔