المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
قَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ فَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ باب: نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ میری امت کا بگاڑ قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگا
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قلابة الرَّقَاشي، حدثنا يحيى بن حمّاد، حدثنا أبو عوانة، عن الأعمش، عن عبد الرحمن بن ثَرْوانَ، عن عمرو بن حنظلة قال: لما قُتِلَ عثمانُ دخلنا على حُذيفة، فإذا القومُ عنده، فقال: والله لا تدعُ ظَلَمةُ مُضَرَ عبدًا الله مؤمنًا إلَّا قتلوه أو فتنوه، حتى يضربهم الله والمؤمنون حتى لا يمنعوا ذَنَبَ تَلْعةٍ، فقال رجل: أتقول هذا وأنت رجلٌ من مُضَر؟! قال: لا أقولُ إِلَّا ما قال رسول الله ﷺ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8451 - على شرط البخاري ومسلمعمرو بن حنظلہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہاں لوگ موجود تھے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! قبیلہ مضر کے ظالم لوگ اللہ کے کسی مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے مگر اسے قتل کریں گے یا فتنے میں ڈال دیں گے، یہاں تک کہ اللہ اور مومنین ان کی ایسی سرکوبی کریں گے کہ وہ کسی نالے کی بلندی (یا معمولی جگہ) کا دفاع بھی نہیں کر سکیں گے۔“ ایک شخص نے کہا: آپ یہ بات کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ خود مضر کے ایک فرد ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے۔ عمرو بن حنظلہ تابعي ہیں، ان سے عبدالرحمن بن ثروان کے سوا کسی نے روایت نہیں کی اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ ان کی متابعت مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (8655) پر گزر چکی ہے۔
أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد وأبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
فنی نکتہ / علّت: ابوقلابہ سے مراد "عبدالملک بن محمد" ہیں اور ابوعوانہ سے مراد "وضاح بن عبداللہ یشکری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23349) عن عبد الله بن نمير، عن الأعمش، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23349) نے عبداللہ بن نمیر عن الاعمش کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔