کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ان لوگوں کا ذکر جن سے (اعمال کا) قلم اٹھا لیا گیا ہے
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا عفر بن عَوْن، أخبرنا الأعمش، عن أبي طَبْيان، عن ابن عباس قال: أُتِيَ عمرُ بمُبْتلاةٍ قد فَجَرَت، فأمَرَ برجمِها، فمرَّ بها عليُّ بن أبي طالب ومعها الصِّبيانُ يتبعونَها، فقال: ما هذه؟ قالوا: أَمَر بها عمرُ أن تُرجَمَ، قال: فردَّها وذهب معها إلى عمر، وقال: ألم تعلم أنَّ القلمَ رُفِعَ عن ثلاثٍ (2): عن المجنون حتى يَعقِل، وعن المُبتَلَى حتى يُفِيقَ، وعن النائم حتى يَستيقِظَ، وعن الصبيِّ حتى يَحتلِم؟ (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ورواه شُعبة عن الأعمش بزيادة ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8168 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی بیمار (ذہنی مریضہ) عورت لائی گئی جس نے بدکاری کی تھی، آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، اس دوران سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا جبکہ بچے اس عورت کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ہے، راوی کہتے ہیں: تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور اس کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؟ (وہ یہ ہیں): مجنون سے یہاں تک کہ وہ صاحبِ عقل ہو جائے، بیمار (ذہنی مریض) سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے، سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے اور بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8367] [ترقيم الشركة 8268] [ترقيم العلميه 8168]
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا أبو النَّضر، حدَّثنا شُعبة، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عباس قال: أُتِيَ عمرُ بامرأةٍ مجنونةٍ حُبْلَى، فأراد أن يرجُمَها، فقال له علي: أوَما علمتَ أنَّ القلم قد رُفِعَ عن ثلاثٍ: عن المجنون حتى يَعقِل، وعن الصبيِّ حتى يَحتلِم، وعن النائم حتى يَستيقِظ؟ فخلَّى عنها (1). وقد رُويَ هذا الحديثُ بإسناد صحيحٍ الرُّواة، مُرسَلٌ عن علي ﵁، عن النبيِّ ﷺ مُسنَدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8169 - صحيح فيه إرسال
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی مجنونہ عورت لائی گئی جو حاملہ تھی، انہوں نے اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؟ (وہ یہ ہیں): مجنون سے یہاں تک کہ وہ باشعور ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8368
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8368] [ترقيم الشركة 8269] [ترقيم العلميه 8169]
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا عفان، حدَّثنا همَّام، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن علي، أَنَّ رسول الله ﷺ قال: "رُفِعَ القلمُ عن ثَلَاثَةٍ: عن النائم حتى يَستيقِظَ، وعن المَعتُوه حتى يَعقِلَ، وعن الصبيِّ حتى يَشِبَّ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، معتوہ (کم عقل/مجنون) سے یہاں تک کہ وہ عقل مند ہو جائے اور بچے سے یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8369
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن رواية الحسن» [ترقيم الرساله 8369] [ترقيم الشركة 8270]
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدَّثنا هاشم بن مَرْثَد الطَّبَراني، حدَّثنا عمرو بن الرَّبيع بن طارق، حدَّثنا عِكْرمة بن إبراهيم، حدثني سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادةَ، عن عبد الله بن رَبَاح (1)، عن أبي قَتَادة: أنه كان مع النبيِّ ﷺ في سَفَر فأدلَجَ فتَقطَّع الناسُ عليه، قال: فقال النبيُّ ﷺ: "إِنَّه يُرفَعُ القلمُ عن ثلاثٍ: عن النائم حتى يَستيقِظَ، وعن المَعتُوه حتى يَصِحَّ، وعن الصبيِّ حتى يَحتِلِمَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8171 - عكرمة ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ رات کے آخری حصے میں چلے اور لوگ آپ سے بچھڑ گئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، معتوہ (ذہنی مریض) سے یہاں تک کہ وہ تندرست ہو جائے اور بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8370
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل عكرمة بن إبراهيم وهو الأزدي، وبه ضعَّفه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8370] [ترقيم الشركة 8271] [ترقيم العلميه 8171]
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بَحْر بن نصر الخَوْلاني، حدَّثنا ابن وهب، أخبرنا ابن جُرَيج، عن ابن أبي نَجِيحٍ، عن مجاهدٍ، عن عطية رجلٍ من بني قُريظة، أخبره أن أصحاب رسول الله ﷺ جرَّدُوه يومَ قُريظةَ، فلم يَرُوا المَواسِيَ جَرَتْ على شَعْره؛ يعني عانتَه، فتَرَكوه من القَتْل (3).
هذا حديث غريب صحيح، ولم يخرجاه، وإنما يُعرَف من حديث عبد الملك بن عُمَير عن عطيّة القُرَظي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8172 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
عطیہ جو کہ بنو قریظہ کے ایک فرد تھے، سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے بنو قریظہ کے (فیصلے کے) دن ان کا معائنہ کیا تو انہوں نے دیکھا کہ ابھی ان کے زیرِ ناف بال نہیں نکلے تھے، چنانچہ انہوں نے انہیں قتل کرنے سے چھوڑ دیا۔
یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ عبدالملک بن عمیر کی عطیہ قرظی سے روایت کے واسطے سے معروف ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8371] [ترقيم الشركة 8272] [ترقيم العلميه 8172]
كما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي. وحدثنا أبو بكر، أخبرنا أبو مُسلِم، حدَّثنا علي بن المَدِيني؛ جميعًا عن سفيان، عن عبد الملك بن عُمَير، قال: سمعتُ عطية القُرَظي يقول: كنتُ غلامًا يومَ حَكَمَ سعدُ بنُ معاذ في بني قُريظة: أن تُقتَلَ مُقاتِلتُهم، وتُسبَى ذَرَارتُهم، فشكُوا فيَّ، فلم يَجِدوني أُنبِتُ الشَّعر، فها أنا ذا بين أظهُرِكم (1). آخر كتاب الحدود [كتاب تعبير الرؤيا] ﷽
حافظ طلحہ بابر
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا جائے، اس وقت میں ایک لڑکا تھا، تو لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا (کہ میں مردوں میں شامل ہوں یا بچوں میں)، پھر جب انہوں نے دیکھا کہ میرے بال ابھی نہیں نکلے تھے (تو مجھے چھوڑ دیا گیا)، اور اب میں تمہارے سامنے موجود ہوں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8372
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8372] [ترقيم الشركة 8273]