کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: خواب میں بیڑیاں ( قید و بند) دیکھنا دین میں ثابت قدمی کی علامت ہیں
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة من أصل كتابه، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "في آخر الزمانِ لا تكادُ رُؤْيا المؤمنِ تَكذِب، وأصدَقُهم رُؤيا أصدَقُهم حديثًا. والرُّؤيا ثلاثٌ: فالرؤيا الحسنةُ بُشْرى من الله ﷿، والرؤيا يُحدِّث بها الرجلُ نفسَه، والرؤيا تحزينٌ من الشيطان، فإذا رأى أحدُكم رؤيا يَكرهُها، فلا يُحدِّث بها أحدًا وليَقُم فليُصلِّ. ورؤيا المؤمن جزءٌ من ستةٍ وأربعين جزءًا من النبوَّة". قال أبو هريرة: يُعجِبُني القَيدُ وأكرهُ الغُلَّ، القَيدُ ثباتٌ في الدِّين (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8174 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آخری زمانے میں مومن کا خواب شاید ہی کبھی جھوٹا ہو، اور تم میں سے خواب کے اعتبار سے سب سے سچا وہ ہوگا جو گفتگو میں سب سے زیادہ سچا ہو۔ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک اچھا خواب جو اللہ عزوجل کی طرف سے بشارت ہے، دوسرا وہ خواب جس کے بارے میں انسان کا اپنا نفس گفتگو کرتا ہے (خیالات)، اور تیسرا وہ خواب جو شیطان کی طرف سے غمزدہ کرنے کے لیے ہوتا ہے، پس جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ اٹھے اور نماز پڑھے۔ اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”مجھے خواب میں بیڑی (پاؤں کا بندھن) نظر آنا پسند ہے اور میں طوق (گردن کا پٹا) ناپسند کرتا ہوں، کیونکہ بیڑی سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 8373
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8373] [ترقيم الشركة 8274] [ترقيم العلميه 8174]
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْديُّ، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعْبة، عن يعلى بن عطاء، عن وكيع بن عُدُس، عن عمه أبي رَزِين العُقَيلي، عن النبي ﷺ قال: "رُؤيا المؤمن جزءٌ من ستةٍ وأربعين جُزءًا من النبوة (1)، وهي على رِجل طائرٍ ما لم يُحدِّثْ بها، فإذا حدَّث بها وَقَعَت" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بالزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8175 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور وہ پرندے کے پاؤں پر ہوتا ہے جب تک کہ اسے بیان نہ کیا جائے، پھر جب اسے بیان کر دیا جاتا ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان اضافی الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 8374
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وكيع بن عدس» [ترقيم الرساله 8374] [ترقيم الشركة 8275] [ترقيم العلميه 8175]