المستدرك على الصحيحين
كتاب الحدود— اسلامی سزاؤں کے متعلق روایات
ذِكْرُ مَنْ رُفِعَ عَنْهُمُ الْقَلَمُ باب: ان لوگوں کا ذکر جن سے (اعمال کا) قلم اٹھا لیا گیا ہے
حدیث نمبر: 8368
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذ العَدْل وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا أبو النَّضر، حدَّثنا شُعبة، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عباس قال: أُتِيَ عمرُ بامرأةٍ مجنونةٍ حُبْلَى، فأراد أن يرجُمَها، فقال له علي: أوَما علمتَ أنَّ القلم قد رُفِعَ عن ثلاثٍ: عن المجنون حتى يَعقِل، وعن الصبيِّ حتى يَحتلِم، وعن النائم حتى يَستيقِظ؟ فخلَّى عنها (1). وقد رُويَ هذا الحديثُ بإسناد صحيحٍ الرُّواة، مُرسَلٌ عن علي ﵁، عن النبيِّ ﷺ مُسنَدًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8169 - صحيح فيه إرسالحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی مجنونہ عورت لائی گئی جو حاملہ تھی، انہوں نے اسے رجم کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؟ (وہ یہ ہیں): مجنون سے یہاں تک کہ وہ باشعور ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم الليثي مولاهم. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ فنی نکتہ / علّت: ابو النضر سے مراد "ہاشم بن قاسم اللیثی" (ان کے آزاد کردہ غلام) ہیں۔ پچھلی روایت دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ فنی نکتہ / علّت: ابو النضر سے مراد "ہاشم بن قاسم اللیثی" (ان کے آزاد کردہ غلام) ہیں۔ پچھلی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8368 سے ماخوذ ہے۔