کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› کتاب اللہ کی سب سے افضل آیت (کا مفہوم) کہ تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے (وہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے)
أخبرني إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّي، حدَّثنا محمد بن الفَرَج، حدَّثنا حجَّاج بن محمد، حدَّثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن أبي جُحَيفة، عن علي قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أذنبَ ذنبًا في الدنيا فسَتَرَه الله عليه وعَفَا عنه، فالله أكرمُ من أن يَرجعَ في شيء قد عَفَا عنه وسَتَره، ومَن أذنب ذنبًا في الدنيا فعُوقِبَ عليه، فالله أعدلُ من أن يُثنِّيَ عقوبتَه على عبدٍ مرَّتينِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ بزيادة ألفاظٍ وتلاوةٍ من القرآن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8165 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ بزيادة ألفاظٍ وتلاوةٍ من القرآن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8165 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا، پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی اور اسے معاف کر دیا، تو اللہ اس بات سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ جس چیز کو وہ معاف کر چکا اور اس پر پردہ ڈال چکا ہو اس کی طرف (دوبارہ سزا کے لیے) رجوع کرے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اسے اس کی سزا دے دی گئی، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایک ہی گناہ پر دو مرتبہ سزا دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه الحسين بن علي التَّميمي، حدَّثنا عبد الله بن محمد محمد البَغَوي، حدَّثنا جدِّي، حدَّثنا مروان (2) بن معاوية، عن أزهَرَ بن راشد الكاهِلي [عن الخَضِر بن القَوّاس] (3) عن أبي سُخَيلةَ، قال: قال لنا أمير المؤمنين عليُّ بن أبي طالب: ألا أخبرُكم بأفضل آيةٍ في كتاب الله ﷿ أخبَرني بها نبيُّ الله ﷺ: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [الشورى: 30]، فالله أكرمُ من أن يُثنِّيَ عليهم العقوبةَ، وما عفا الله عنه في الدنيا فالله أكرمُ من أن يعودَ في عفوِه (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8166 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8166 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ کی کتاب کی سب سے افضل آیت کے بارے میں نہ بتاؤں جس کی خبر مجھے اللہ کے نبی ﷺ نے دی تھی؟ (وہ یہ ہے): ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ ”اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہے، اور وہ بہت سے (گناہوں) کو تو معاف ہی کر دیتا ہے۔“ [سورة الشورى: 30]، پس اللہ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ وہ (آخرت میں) ان پر سزا کو دہرائے، اور جس چیز کو اللہ نے دنیا میں معاف فرما دیا، تو اللہ اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ وہ اپنی معافی سے رجوع کرے۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الربيع بن سليمان، حدَّثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن المُنكَدِر حدَّثه، أَنَّ ابن خُزَيمة بن ثابت حدَّثه عن أبيه خُزيمة بن ثابت، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أَيُّما عبدٍ أصابَ شيئًا مما نَهَى الله عنه، ثم أُقيمَ عليه حدُّه، كُفِّر عنه ذلك الذَّنبُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8167 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8167 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی بندے سے کسی ایسی چیز کا صدور ہو جائے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے، پھر اس پر اس کی حد قائم کر دی جائے، تو وہ حد اس کے اس گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔