حدیث نمبر: 8367
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا عفر بن عَوْن، أخبرنا الأعمش، عن أبي طَبْيان، عن ابن عباس قال: أُتِيَ عمرُ بمُبْتلاةٍ قد فَجَرَت، فأمَرَ برجمِها، فمرَّ بها عليُّ بن أبي طالب ومعها الصِّبيانُ يتبعونَها، فقال: ما هذه؟ قالوا: أَمَر بها عمرُ أن تُرجَمَ، قال: فردَّها وذهب معها إلى عمر، وقال: ألم تعلم أنَّ القلمَ رُفِعَ عن ثلاثٍ (2): عن المجنون حتى يَعقِل، وعن المُبتَلَى حتى يُفِيقَ، وعن النائم حتى يَستيقِظَ، وعن الصبيِّ حتى يَحتلِم؟ (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ورواه شُعبة عن الأعمش بزيادة ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8168 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسی بیمار (ذہنی مریضہ) عورت لائی گئی جس نے بدکاری کی تھی، آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، اس دوران سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا جبکہ بچے اس عورت کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ہے، راوی کہتے ہیں: تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور اس کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؟ (وہ یہ ہیں): مجنون سے یہاں تک کہ وہ صاحبِ عقل ہو جائے، بیمار (ذہنی مریض) سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے، سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے اور بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8367
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8367] [ترقيم الشركة 8268] [ترقيم العلميه 8168]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا في النسخ الخطية: ثلاث، والمذكور بعدها أربع، وسلف الحديث مرتين من طريق جرير بن حازم عن الأعمش، ليس فيه ذكر المبتلى.
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں "تین" (ثلاث) لکھا ہے، جبکہ اس کے بعد ذکر "چار" کا ہے۔ یہ حدیث پہلے دو بار جریر بن حازم عن الأعمش کے طریق سے گزر چکی ہے اور اس میں "مبتلی" (آزمائش والے) کا ذکر نہیں تھا۔
(3) إسناده صحيح. أبو ظَبيان: هو حصين بن جندب. وسلف مرفوعًا برقمي (962) و (2327) من طريق جرير بن حازم عن الأعمش.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے۔ فنی نکتہ / علّت: ابو ظبیان سے مراد "حصین بن جندب" ہیں۔ یہ روایت مرفوعاً نمبر (962) اور (2327) پر جریر بن حازم عن الأعمش کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8367 سے ماخوذ ہے۔