کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ کی معصیت اور قطع رحمی میں کوئی نذر (ماننا) جائز نہیں
حدثناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا حَبيب المعلِّم، عن عمرو بن شُعيب، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ أخوينِ من الأنصار كان بينهما مِيراثٌ، فسأل أحدُهما صاحبَه القسمةَ، فقال: لئن عُدْتَ سألتَني القسمةَ لم أكلِّمْك أبدًا، وكلُّ مالي في رِتَاج الكعبة، فقال عمر بن الخطاب إنَّ الكعبةَ لَغنيّةٌ عن مالِك، كَفِّرْ عن يمينك وكلِّمْ أخاك، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا يمينَ عليك ولا نذرَ في معصيةِ الرَّبِّ، ولا في قطيعةِ الرَّحِم، ولا فيما لا تَملِكُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7823 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7823 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ دو انصاری بھائیوں میں وراثت کی تقسیم کا معاملہ تھا، ایک نے دوسرے سے مطالبہ کیا تو اس نے قسم کھا لی کہ اب اگر تم نے دوبارہ پوچھا تو میں تم سے کبھی کلام نہیں کروں گا اور میرا سارا مال کعبہ کے لیے وقف ہے؛ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کعبہ تمہارے مال کا محتاج نہیں، اپنی قسم کا کفارہ دو اور بھائی سے بات کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ”تم پر اللہ کی معصیت، قطع رحمی اور جس چیز کے تم مالک نہ ہو اس میں کوئی قسم یا نذر لازم نہیں ہوتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا أبو البَخْتري عبدُ الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أسباط بن محمد القُرَشي، حدثنا الشَّيباني، عن عبد العزيز بن رُفَيع، عن تَمِيم الطائي، قال: جاء رجلٌ إلى عَدِيّ بن حاتم فقال: إني تزوجتُ امرأةً فأعطِني، قال: أكتبُ لك بدِرْعٍ ومِغفَر فتُعْطاها، فتَسَخَّطها الرجلُ، فَحَلَفَ عديٌّ أن لا يُعطيها إياه، فقال الرجل: كنتُ أرجو أن تُعطيَني وَصِيفًا، فقال: والله لَهُما أحبُّ إليَّ من وَصِيفَينِ، فقال الرجل: فاكتُبْ لي بهما، فقال عديٌّ: أمَا [واللهِ لولا] أنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إذا حَلَفَ أحدُكم على يمينٍ فرأى خيرًا منها، فليأتِ الذي هو خيرٌ"، ما كتبتُ لك بهما، قال: فكَتَبَ له بهما (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7824 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7824 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
تمیم طائی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس مدد کے لیے آیا، انہوں نے اسے ایک زرہ اور خود (ہیلمٹ) دینے کی پیشکش کی تو وہ ناخوش ہوا، جس پر عدی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ اب یہ بھی نہیں دوں گا، لیکن جب اس شخص نے دوبارہ وہی مانگے تو عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ ”اگر کوئی قسم کھائے پھر اس سے بہتر کام دیکھے تو وہی کرے جو بہتر ہے“، تو میں تمہیں یہ نہ دیتا؛ پھر انہوں نے وہ اشیاء اسے دے دیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا الهيثم بن حُمَيد، عن زيد بن واقد، عن بُسْر بن عُبيد الله، عن ابن عائذ، عن أبي الدَّرداء، عن النبيِّ ﷺ؛ قال: أفاءَ الله على رسولِه إبلًا ففرَّقها، فقال أبو موسى الأشعريُّ: يا رسولَ الله، أَحْذِني، قال: "لا"، فقال له ثلاثًا، فقال رسول الله ﷺ: "لا أفعلُ (2) "، قال: وبقي أربعٌ غُرُّ الذُّرَى فقال: "يا أبا موسى، خُذْهُنَّ" فقال: يا رسولَ الله، إني أستَحْيي [سألتُك] (3) فمنعتَني وحلفتَ، فأشفقتُ أن يكونَ دخلَ على رسول الله ﷺ وهمٌ، فقال رسول الله ﷺ: "إنِّي إذا حلفتُ فرأيتُ أنَّ غيرَ ذلك أفضلُ، كفَّرتُ عن يميني وأَتيتُ الذي هو أفضلُ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7825 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7825 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اونٹ تقسیم فرمائے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بار بار مانگنے پر آپ نے (قسم کھا کر) انکار کر دیا، پھر جب چار بہترین اونٹ بچ گئے تو آپ ﷺ نے انہیں بلا کر وہ عطا فرما دیے؛ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حیرت ظاہر کرنے پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں جب کسی بات پر قسم کھاؤں اور پھر دیکھوں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا عمل زیادہ بہتر ہے، تو میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو افضل ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الوليد الإمام، حدثنا محمد بن إسحاق ومحمد بن نُعيم، قالا: حدثنا أبو الأشعَث، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطُّفَاوي، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسولُ الله ﷺ إِذا حَلَفَ على يمين لا يَحنَثُ، حتى أنزل الله تعالى كفّارةَ اليمين، فقال: "لا أحلِفُ على يمينٍ فأرى غيرَها خيرًا منها، إلَّا كَفَّرتُ عن يميني ثم أَتيتُ الذي هو خيرٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7826 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7826 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی بات پر قسم کھاتے تو اسے نہیں توڑتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارہ کا حکم نازل فرمایا، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میں جب کسی بات پر قسم کھاؤں اور اس کے علاوہ کسی دوسری چیز میں بہتری دیکھوں، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور وہی کرتا ہوں جس میں خیر ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا معاوية بن سلَّام، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "من استَلَجَّ في أهلِه بيمينٍ، فهو أعظُم إثمًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7827 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7827 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے گھر والوں کے معاملے میں کھائی گئی (کسی نقصان دہ) قسم پر ہٹ دھرمی سے اڑا رہے، تو یہ اس کے لیے (قسم توڑنے کے مقابلے میں) زیادہ بڑے گناہ کا باعث ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔