حدیث نمبر: 8016
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الوليد بن كَثير، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو، أَنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "مَن طَلَّقَ مَن لا يَملِكُ فلا طلاقَ له، ومَن أعتقَ ما لا يَملِكُ فلا عَتاقَ له، ومَن نَذَرَ فيما لا يَملِكُ فلا نذرَ له، ومن حَلَفَ على معصيةٍ فلا يمينَ له، ومن حَلَفَ على قطيعةِ رَحِمٍ فلا يمينَ له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعند عمرو بن شعيب فيه إسناد آخر:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کا انسان مالک نہ ہو اس میں اس کی طلاق (واقع) نہیں ہوتی، نہ اس کی غلامی سے آزادی معتبر ہے، نہ ایسی چیز کی نذر صحیح ہے جس کا وہ مالک نہ ہو، اور نہ ہی اللہ کی نافرمانی یا قطع رحمی پر کی گئی قسم کی کوئی شرعی حیثیت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 8016
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8016] [ترقيم الشركة 7921]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه أبو داود (2191)، وابن ماجه (2047) عن أبي كريب محمد بن العلاء، عن أبي أسامة بهذا الإسناد. ورواية ابن ماجه مختصرة بذكر الطلاق فقط. وسلف برقم (2856).
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (2191) اور ابن ماجہ (2047) نے ابو کریب محمد بن العلاء عن ابی اسامہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن ماجہ کی روایت مختصر ہے جس میں صرف طلاق کا ذکر ہے۔
اہم نکتہ: یہ روایت پہلے نمبر (2856) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8016 سے ماخوذ ہے۔