کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: چھینکنے والے کا جواب دینا (تشمیت) جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے
أخبرنا محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا بِشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: جلسَ عند النَّبِيِّ ﷺ رجلانِ أحدُهما أشرفُ من الآخَر، فعَطَسَ الشريفُ فلم يَحمَدِ الله، فلم يُشمِّته النَّبِيُّ ﷺ، ثم عَطَسَ الآخرُ فَحَمِدَ الله، فشمَّته النَّبِيُّ ﷺ، فقال الشريفُ: عَطَستُ فلم تُشمِّتْني، وعَطَسَ هذا فشمَّتَّه؟ قال: "إنَّك نسيتَ الله فنَسيتُك، وإِنَّ هذا ذكَرَ الله فذَكرتُه" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7689 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7689 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس دو شخص بیٹھے تھے جن میں سے ایک دوسرے سے زیادہ معزز (شریف) تھا، اس معزز شخص کو چھینک آئی لیکن اس نے اللہ کی حمد بیان نہیں کی تو نبی کریم ﷺ نے اس کا جواب نہیں دیا، پھر دوسرے شخص کو چھینک آئی اور اس نے اللہ کی حمد بیان کی تو نبی کریم ﷺ نے اسے «يَرْحَمُكَ اللهُ» کہا، اس معزز شخص نے عرض کیا: مجھے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا جبکہ اسے چھینک آئی تو آپ نے جواب دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تم نے اللہ کو بھلا دیا تو میں نے تمہیں بھلا دیا، اور اس نے اللہ کو یاد کیا تو میں نے بھی اسے یاد کیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا يعقوب بن إبراهيم الدَّورَقي، حَدَّثَنَا القاسم بن مالك المُزَني، حَدَّثَنَا عاصم بن كُلَيب، عن أبي بُرْدة بن أبي موسى، قال: شَهِدتُ أبا موسى وهو في بيت أمِّ الفضل، فعَطَسَتْ فشمَّتها، وعطستُ فلم يُشمِّتْني، فلما جئتُ إلى أُمِّي أخبرتُها، فلما جاءها أبو موسى قالت له: عَطَسَ عندك ابني فلم تُشمِّتْه، وعطسَتِ امرأةٌ فشمَّتَها، فقال: إِنَّ ابنَك عَطَسَ فلم يَحمَدِ الله فلم أُشمَّتْه، وإِنَّها عطسَتْ فَحَمِدَتِ اللهِ فَشمَّتُّها، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إذا عطس أحدُكم فحَمِدَ الله فشمِّتُوه، وإذا لم يَحمَدِ الله فلا تُشمِّتُوه"، قالت: أحسنتَ أحسنتَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7690 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7690 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جبکہ وہ ام الفضل کے گھر میں تھے، ام الفضل کو چھینک آئی تو ابوموسیٰ نے اس کا جواب دیا، پھر مجھے چھینک آئی تو انہوں نے میرا جواب نہ دیا، میں نے اپنی والدہ کے پاس جا کر انہیں بتایا، جب ابوموسیٰ ان کے پاس آئے تو والدہ نے کہا: میرے بیٹے کو آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے جواب نہ دیا جبکہ ایک خاتون کو چھینک آئی تو آپ نے اسے جواب دیا؟ انہوں نے کہا: تمہارے بیٹے کو چھینک آئی لیکن اس نے اللہ کی حمد نہیں کی اس لیے میں نے جواب نہ دیا، اور ان خاتون کو چھینک آئی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی اس لیے میں نے انہیں جواب دیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کا جواب دو، اور اگر وہ اللہ کی حمد نہ کرے تو اس کا جواب نہ دو“، اس پر انہوں نے کہا: آپ نے بہت اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا أبو الرَّبيع الحارثي ومحمد بن يحيى القُطَعي، قالا: حَدَّثَنَا زياد بن الرَّبيع، حَدَّثَنَا الحَضْرميُّ بن لاحِق، عن نافع: أنَّ رجلًا عَطَسَ عند عبد الله بن عمر فقال: الحمدُ لله والسلامُ على رسول الله، فقال ابن عمر: وأنا أقولُ: الحمدُ لله والسلامُ على رسول الله، ولكن ليس هكذا عُلِّمنا، عَلَّمَنا رسولُ الله ﷺ إذا عَطَسَ أحدُنا أن نقولَ: الحمدُ الله على كلِّ حال (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، غريبٌ (1) في ترجمة شيوخ نافع، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ في الباب حديثانِ تفرَّد بروايتهما محمدُ بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن آبائه، أما الحديث الأول منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7691 - صحيح غريب
هذا حديث صحيح الإسناد، غريبٌ (1) في ترجمة شيوخ نافع، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ في الباب حديثانِ تفرَّد بروايتهما محمدُ بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن آبائه، أما الحديث الأول منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7691 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چھینک آئی تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر سلامتی ہو“، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بھی یہی کہتا ہوں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر سلامتی ہو، لیکن ہمیں اس طرح نہیں سکھایا گیا، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ سکھایا ہے کہ جب ہم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور نافع کے اساتذہ کے تراجم میں غریب ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور نافع کے اساتذہ کے تراجم میں غریب ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أخيه (2) عيسى، عن أبيه عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي أيوب الأنصاري، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "العاطسُ يقولُ: الحمدُ الله على كلِّ حال، ويقول الذي يُشمِّتُه: يَرحمُكمُ الله، ويردُّ عليه: يَهديكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (3). هذا من أَوهام محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى الفقيه الأنصاري القاضي ﵀، فلولا ما ظَهَرَ من هذه الأوهام لما نسبه أئمةُ الحديث إلى سوء الحفظ، وبيانُ ما ذكرته:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھینک مارنے والا کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، اور جو اس کا جواب دے وہ کہے: «يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، اور وہ (چھینکنے والا) اسے جواب میں کہے: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے“۔“
یہ حدیث محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فقیہ انصاری قاضی رحمہ اللہ کے اوہام میں سے ہے، اگر یہ اوہام ظاہر نہ ہوتے تو ائمہ حدیث انہیں حافظے کی خرابی کی طرف منسوب نہ کرتے، اور جو میں نے ذکر کیا اس کا بیان اگلی روایت میں ہے۔
یہ حدیث محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فقیہ انصاری قاضی رحمہ اللہ کے اوہام میں سے ہے، اگر یہ اوہام ظاہر نہ ہوتے تو ائمہ حدیث انہیں حافظے کی خرابی کی طرف منسوب نہ کرتے، اور جو میں نے ذکر کیا اس کا بیان اگلی روایت میں ہے۔
ما أخبرنَاه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، حَدَّثَنَا ابن أبي ليلى، حدثني أخي، عن أبي، عن علي بن أبي طالب، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "إذا عطس أحدُكم فليقل: الحمدُ لله على كلِّ حال، وليقولُوا له: يَرحمُكم الله، وليقُلْ: يَهديكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (1). فأمّا اللفظة التي اختارها فقهاءُ أهل الكوفة للعاطس في الجواب في هذه التحيّة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، اور لوگ اسے کہیں: «يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، اور وہ (چھینکنے والا) کہے: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے“۔“