حدیث نمبر: 7885
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أخيه (2) عيسى، عن أبيه عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي أيوب الأنصاري، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال: "العاطسُ يقولُ: الحمدُ الله على كلِّ حال، ويقول الذي يُشمِّتُه: يَرحمُكمُ الله، ويردُّ عليه: يَهديكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (3). هذا من أَوهام محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى الفقيه الأنصاري القاضي ﵀، فلولا ما ظَهَرَ من هذه الأوهام لما نسبه أئمةُ الحديث إلى سوء الحفظ، وبيانُ ما ذكرته:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھینک مارنے والا کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، اور جو اس کا جواب دے وہ کہے: «يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، اور وہ (چھینکنے والا) اسے جواب میں کہے: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے“۔“
یہ حدیث محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فقیہ انصاری قاضی رحمہ اللہ کے اوہام میں سے ہے، اگر یہ اوہام ظاہر نہ ہوتے تو ائمہ حدیث انہیں حافظے کی خرابی کی طرف منسوب نہ کرتے، اور جو میں نے ذکر کیا اس کا بیان اگلی روایت میں ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7885
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، وكان يضطرب في رواية هذا الحديث فيجعله مرة عن أبي أيوب ويجعله أخرى عن علي كما أشار المصنّف عقبه» [ترقيم الرساله 7885] [ترقيم الشركة 7791]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) أُقحم هنا بين "أخيه وعيسى" في النسخ: عن.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں "اخیہ" اور "عیسیٰ" کے درمیان لفظ "عن" (سے) غلطی سے شامل ہو گیا تھا (جسے تصحیح کے دوران حذف کر دیا گیا ہے)۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، وكان يضطرب في رواية هذا الحديث فيجعله مرة عن أبي أيوب ويجعله أخرى عن علي كما أشار المصنّف عقبه. وانظر "علل الدارقطني" (403).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، البتہ اس کی یہ مخصوص سند محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن ابی لیلیٰ اس حدیث کی روایت میں 'اضطراب' (الجھاؤ) کا شکار تھے، وہ کبھی اسے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کرتے اور کبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، جیسا کہ مصنف نے آگے اشارہ کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے "علل الدارقطنی" (403) ملاحظہ فرمائیں۔
وأخرجه النسائي (9970) عن محمد بن بشار، عن سعيد بن عامر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (9970) نے محمد بن بشار عن سعید بن عامر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (38/ 23557) و (23587) و (23588)، والترمذي (2741) من طرق عن شعبة، به. وقال الترمذي: هكذا روى شعبة هذا الحديث عن ابن أبي ليلى عن أبي أيوب عن النَّبِيّ ﷺ، وكان ابن أبي ليلى يضطرب في هذا الحديث، يقول أحيانًا: عن أبي أيوب عن النَّبِيّ ﷺ، ويقول أحيانًا: عن علي عن النَّبِيّ ﷺ. قلنا: سيورد المصنّف حديث علي في الحديث التالي.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23557، 23587، 23588) اور امام ترمذی (2741) نے شعبہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ شعبہ نے اسی طرح ابن ابی لیلیٰ عن ابی ایوب کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن ابن ابی لیلیٰ اس میں مضطرب تھے، کبھی حضرت ابو ایوب کا نام لیتے اور کبھی حضرت علی کا۔
نوٹ / توضیح: مصنف اگلی ہی حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت ذکر کریں گے۔
ويشهد له حديث أبي هريرة عند البخاري (6224) وغيره.
متابعات و شواہد: اس روایت کی تائید (شاہد) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو امام بخاری (6224) اور دیگر محدثین کے ہاں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7885 سے ماخوذ ہے۔