حدیث نمبر: 7884
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا أبو الرَّبيع الحارثي ومحمد بن يحيى القُطَعي، قالا: حَدَّثَنَا زياد بن الرَّبيع، حَدَّثَنَا الحَضْرميُّ بن لاحِق، عن نافع: أنَّ رجلًا عَطَسَ عند عبد الله بن عمر فقال: الحمدُ لله والسلامُ على رسول الله، فقال ابن عمر: وأنا أقولُ: الحمدُ لله والسلامُ على رسول الله، ولكن ليس هكذا عُلِّمنا، عَلَّمَنا رسولُ الله ﷺ إذا عَطَسَ أحدُنا أن نقولَ: الحمدُ الله على كلِّ حال (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، غريبٌ (1) في ترجمة شيوخ نافع، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ في الباب حديثانِ تفرَّد بروايتهما محمدُ بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن آبائه، أما الحديث الأول منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7691 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر

نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چھینک آئی تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر سلامتی ہو“، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بھی یہی کہتا ہوں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر سلامتی ہو، لیکن ہمیں اس طرح نہیں سکھایا گیا، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ سکھایا ہے کہ جب ہم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور نافع کے اساتذہ کے تراجم میں غریب ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7884
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، من أجل الحضرمي: وهو ابن عجلان مولى آل الجارود، وليس كما وقع عند المصنّف بأنه ابن لاحق، فهذا وهمٌ، انظر "موضع الأوهام" للخطيب 1/ 230، ولاحق بن عجلان هذا، روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 7884] [ترقيم الشركة 7790] [ترقيم العلميه 7691]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل الحضرمي: وهو ابن عجلان مولى آل الجارود، وليس كما وقع عند المصنّف بأنه ابن لاحق، فهذا وهمٌ، انظر "موضع الأوهام" للخطيب 1/ 230، ولاحق بن عجلان هذا، روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات". أبو الربيع سماه ابن حبان في "الثقات" 8/ 407 عبيدَ الله بن محمد الحارثي، وقال: مستقيم الحديث.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے جس کی وجہ راوی 'حضرمی' ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: حضرمی سے مراد 'ابن عجلان مولیٰ آل الجارود' ہیں۔ مصنف (امام صاحب) سے یہاں سہو (وہم) ہوا ہے کہ انہوں نے انہیں 'ابن لاحق' لکھا ہے، اس کی تفصیل خطیب بغدادی کی "موضع اوہام الجمع والتفریق" (1/ 230) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جبکہ لاحق بن عجلان ایک الگ راوی ہیں جن سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
اہم نکتہ: سند میں موجود 'ابو الربیع' کا نام ابن حبان نے "الثقات" (8/ 407) میں 'عبید اللہ بن محمد الحارثی' بتایا ہے اور انہیں 'مستقیم الحدیث' قرار دیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2738) عن حميد بن مَسعدة، عن زياد بن الربيع، عن حضرمي مولى آل الجارود، بهذا الإسناد. وقال: غريب لا نعرفه إلّا من حديث زياد بن الربيع.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2738) نے حمید بن مسعدہ عن زیاد بن الربیع عن حضرمی مولیٰ آل الجارود کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث "غریب" ہے اور ہم اسے صرف زیاد بن الربیع کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
(1) وقع في النسخ: قريب، ولا معنى له، والمثبت من "التلخيص".
نوٹ / توضیح: اصلی نسخوں میں یہاں لفظ "قریب" لکھا ہوا ہے جس کا یہاں کوئی محل یا معنی نہیں بنتا، لہٰذا "التلخیص" کی روشنی میں صحیح لفظ (جو متن میں درج ہے) کو ثابت کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7884 سے ماخوذ ہے۔