کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، حَدَّثَنَا عبد الحميد بن جعفر [عن أبيه] (2) عن حَكيم بن أفلح، عن أبي مسعود، عن النَّبِيَّ ﷺ قال: "للمسلمِ على المسلمِ أربعُ خِلال: يُجِيبُه إذا دعاه، ويَعودُه إذا مَرِضَ، ويُشمِّتُه إذا عَطَسَ، ويُشيِّعُه إذا مات" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7685 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب وہ اسے (دعوت کے لیے) بلائے تو اسے قبول کرے، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، جب اسے چھینک آئے (اور وہ اللہ کی حمد کرے) تو اس کا جواب دے، اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7878
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كما سلف بيانه برقم (1408)» [ترقيم الرساله 7878] [ترقيم الشركة 7784] [ترقيم العلميه 7685]
أخبرنا علي بن أحمد بن قُرْقُوب التَّمَّار بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئب، عن سعيد المَقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النَّبِيِّ ﷺ قال: "إنَّ الله يُحِبُّ العُطاسَ، فإذا عَطَسَ أحدُكم فحقٌّ على كلِّ مَن سَمِعَه أن يقول: يَرحمُك الله" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وهذه ترجمة لم يُخِلَّ أبو عبد الله البخاري بحديث منها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7686 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے، پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو ہر وہ شخص جو اسے سنے اس پر یہ حق ہے کہ وہ «يَرْحَمُكَ اللهُ» کہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام بخاری نے ان احادیث میں سے کسی کو اپنے ابواب (تراجم) میں نظر انداز نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7879
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7879] [ترقيم الشركة 7785] [ترقيم العلميه 7686]
وقد حدَّثَناه أبو زكريا العَنْبري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد القَبَّاني، حَدَّثَنَا عمرو بن علي، حَدَّثَنَا أبو عامر العَقَدي، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئب، عن المَقبُري، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "العطاسُ من الله والتثاؤبُ من الشَّيطان، وحقٌّ على من سَمِعَه أن يقول: يَرحمُكم الله" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھینک اللہ کی طرف سے ہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے، اور (چھینک) سننے والے پر یہ حق ہے کہ وہ «يَرْحَمُكُمُ اللهُ» کہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7880
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كسابقه» [ترقيم الرساله 7880] [ترقيم الشركة 7786]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا بِشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ الناسَ أن يَجلِسوا بأفنيَةِ الصُّعُدات، قالوا: إنَّا لا نستطيعُ ذاك ولا نُطِيقُه يا رسول الله، قال: "إمَّا لا، فأَدُّوا حقها" قالوا: وما حقُّها يا رسولَ الله؟ قال: "رَدُّ التحيَّة، وتشميتُ العاطس إذا حَمِدَ الله، وغَضُّ البصر، وإرشادُ السَّبيل" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7688 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو راستوں کے کناروں پر بیٹھنے سے منع فرمایا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اس سے نہیں بچ سکتے (ہماری ضرورت ہے)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر نہیں (بچ سکتے) تو پھر راستے کا حق ادا کرو“ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سلام کا جواب دینا، چھینک مارنے والے کی حمد پر اس کا جواب دینا، نظریں نیچی رکھنا اور راستہ بھولے ہوئے کی رہنمائی کرنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7881
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن إسحاق» [ترقيم الرساله 7881] [ترقيم الشركة 7787] [ترقيم العلميه 7688]