حدیث نمبر: 7883
حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا يعقوب بن إبراهيم الدَّورَقي، حَدَّثَنَا القاسم بن مالك المُزَني، حَدَّثَنَا عاصم بن كُلَيب، عن أبي بُرْدة بن أبي موسى، قال: شَهِدتُ أبا موسى وهو في بيت أمِّ الفضل، فعَطَسَتْ فشمَّتها، وعطستُ فلم يُشمِّتْني، فلما جئتُ إلى أُمِّي أخبرتُها، فلما جاءها أبو موسى قالت له: عَطَسَ عندك ابني فلم تُشمِّتْه، وعطسَتِ امرأةٌ فشمَّتَها، فقال: إِنَّ ابنَك عَطَسَ فلم يَحمَدِ الله فلم أُشمَّتْه، وإِنَّها عطسَتْ فَحَمِدَتِ اللهِ فَشمَّتُّها، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إذا عطس أحدُكم فحَمِدَ الله فشمِّتُوه، وإذا لم يَحمَدِ الله فلا تُشمِّتُوه"، قالت: أحسنتَ أحسنتَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7690 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جبکہ وہ ام الفضل کے گھر میں تھے، ام الفضل کو چھینک آئی تو ابوموسیٰ نے اس کا جواب دیا، پھر مجھے چھینک آئی تو انہوں نے میرا جواب نہ دیا، میں نے اپنی والدہ کے پاس جا کر انہیں بتایا، جب ابوموسیٰ ان کے پاس آئے تو والدہ نے کہا: میرے بیٹے کو آپ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے جواب نہ دیا جبکہ ایک خاتون کو چھینک آئی تو آپ نے اسے جواب دیا؟ انہوں نے کہا: تمہارے بیٹے کو چھینک آئی لیکن اس نے اللہ کی حمد نہیں کی اس لیے میں نے جواب نہ دیا، اور ان خاتون کو چھینک آئی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی اس لیے میں نے انہیں جواب دیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کا جواب دو، اور اگر وہ اللہ کی حمد نہ کرے تو اس کا جواب نہ دو“، اس پر انہوں نے کہا: آپ نے بہت اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7883
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي» [ترقيم الرساله 7883] [ترقيم الشركة 7789] [ترقيم العلميه 7690]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی (مضبوط) ہے۔
وأخرجه أحمد (32/ 19697)، ومسلم (2992) من طرق عن القاسم بن مالك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (32/ 19697) اور امام مسلم نے (2992) میں قاسم بن مالک کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7883 سے ماخوذ ہے۔