حدیث نمبر: 7886
ما أخبرنَاه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، حَدَّثَنَا ابن أبي ليلى، حدثني أخي، عن أبي، عن علي بن أبي طالب، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "إذا عطس أحدُكم فليقل: الحمدُ لله على كلِّ حال، وليقولُوا له: يَرحمُكم الله، وليقُلْ: يَهديكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (1). فأمّا اللفظة التي اختارها فقهاءُ أهل الكوفة للعاطس في الجواب في هذه التحيّة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال میں تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، اور لوگ اسے کہیں: «يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، اور وہ (چھینکنے والا) کہے: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے“۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7886
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه» [ترقيم الرساله 7886] [ترقيم الشركة 7792]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه. أبو المثنى: هو معاذ ابن المثنى العنبري.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، مگر اس کی سند گزشتہ روایت کی طرح (ابن ابی لیلیٰ کی وجہ سے) "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو المثنیٰ سے مراد معاذ بن المثنیٰ العنبری ہیں۔
وأخرجه أحمد (2/ 995)، والترمذي (2741 م) من طريق يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (2/ 995) اور امام ترمذی (2741 م) نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3715)، وعبد الله بن أحمد في زوائده على "المسند" (2/ 972) من طريق علي بن مسهر، والنسائي (9969) من طريق أبي عوانة وضاح اليشكري، كلاهما عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، به. وفي رواية عبد الله: الحمد لله رب العالمين.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (3715)، عبد اللہ بن احمد نے 'زوائد المسند' (2/ 972) میں علی بن مسہر کے طریق سے، اور امام نسائی (9969) نے ابو عوانہ وضاح یشکری کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں۔
تفصیلِ روایت: عبد اللہ بن احمد کی روایت میں الفاظ "الحمد للہ رب العالمین" آئے ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد (973) من طريق منصور بن أبي الأسود، عن ابن أبي ليلى، عن الحكم أو عيسى - شكَّ منصور - عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن علي. والحكم: هو ابن عتيبة.
حوالہ / مصدر: اسے عبد اللہ بن احمد (973) نے منصور بن ابی الاسود کے طریق سے روایت کیا ہے، جنہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہوئے شک کیا کہ یہ 'حکم' سے ہے یا 'عیسیٰ' سے، جو کہ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں 'الحکم' سے مراد 'حکم بن عتیبہ' ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7886 سے ماخوذ ہے۔