کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اپنے ایمان کی تجدید "لا الہ الا اللہ" کے ذریعے کرتے رہا کرو
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا محمد بن الجَهْم بن هارون السِّمَّري، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا صَدَقة بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن واسع، عن سُمَير بن نَهَار، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "قال ربُّكم ﷿: لو أنَّ عبادي أطاعوني لأسقَيتُهم المطرَ بالليل، ولأطلعتُ عليهم الشمسَ بالنَّهار، ولَمَا أسمعتُهم صوتَ الرَّعد" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7657 - صدقة ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7657 - صدقة ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے رب عزوجل نے فرمایا: اگر میرے بندے میری اطاعت کرتے تو میں انہیں رات کے وقت بارش عطا کرتا اور دن کے وقت ان پر سورج طلوع فرماتا اور انہیں بجلی کے کڑکنے کی آواز نہ سنواتا۔“
وقال رسول الله ﷺ: "حُسْنُ الظَّن من حُسْن العِبادة" (1).
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا بہترین عبادت میں سے ہے۔“
وقال رسول الله ﷺ: "جَدَّدُوا إيمانَكم" قيل: يا رسولَ الله، وكيف نُجدَّد إيمانَنا؟ قال: "أكثِرُوا من قولِ: لا إله إلَّا الله" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کثرت سے کہا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخير، عن عُقْبة بن عامر: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ فقال: يا رسولَ الله، أحدُنا يُذنِبُ، قال: "يُكتَبُ عليه" قال: ثم يستغفرُ منه ويتوبُ، قال: "يُغفَرُ له ويُتابُ عليه" قال: فيعودُ فيُذنِبُ، قال: "يُكتَبُ عليه، ولا يَمَلُّ الله حتَّى تَمَلُّوا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7658 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7658 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے“ اس نے عرض کیا: پھر وہ اس سے مغفرت مانگتا اور توبہ کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے“ اس نے عرض کیا: وہ دوبارہ گناہ کر بیٹھتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (دوبارہ) لکھ دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ (معاف کرنے سے) نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم خود (توبہ کرنے سے) اکتا جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔