حدیث نمبر: 7852
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا عمر بن حفص السَّدوسي، حَدَّثَنَا عاصم بن علي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن أبيه، عن مكحول، عن جُبير بن نُفير، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ الله تعالى يَغفِرُ لعبده - أو يقبلُ توبةَ عبدِه - ما لم يُغَرغِرْ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7659 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو معاف فرما دیتا ہے - یا (فرمایا) اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے - جب تک کہ اس کا دم نہ اکھڑنے لگے (یعنی نزع کی حالت اور حلق میں غرغرے کی کیفیت طاری نہ ہو جائے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7852
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، وعلي بن عاصم» [ترقيم الرساله 7852] [ترقيم الشركة 7758] [ترقيم العلميه 7659]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، وعلي بن عاصم - وهو ابن عاصم الواسطي - فيه ضعف، وقد توبع.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی حسن ہونے کی وجہ عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان ہیں، جبکہ علی بن عاصم الواسطی میں ضعف ہے لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد (10/ 6160) و (6408)، والترمذي (3537)، وابن حبان (628) من طرق عن عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (10/ 6160) اور (6408)، امام ترمذی (3537) اور ابن حبان (628) نے عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4253) من طريق الوليد بن مسلم، عن ابن ثوبان، عن أبيه، عن مكحول، عن جبير، عن عبد الله بن عمرو، فجعله من حديث ابن عمرو، وهو وهمٌ نبَّه عليه المزيُّ في "التحفة" (6674)، والذهبي في "سير أعلام النبلاء" 5/ 160.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4253) نے ولید بن مسلم عن ابن ثوبان عن ابیہ ثوبان بن عتبہ عن مکحول عن جبیر عن عبد اللہ بن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت کو عبد اللہ بن عمروؓ کی حدیث قرار دینا ایک "وہم" (غلطی) ہے، جس پر علامہ مزی نے "تحفۃ الاشراف" (6674) اور امام ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" (5/ 160) میں تنبیہ فرمائی ہے۔
وانظر الأحاديث التالية.
نوٹ / توضیح: مزید وضاحت کے لیے درجِ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
وفي الباب عن عبادة بن الصامت عند الطبري في "التفسير" 4/ 302 - 303، والقضاعي في "مسند الشهاب" (1085)، ورجاله ثقات، لكنه منقطع.
متابعات و شواہد: اس باب میں عبادہ بن صامتؓ سے بھی روایت مروی ہے جو امام طبری (تفسیر 4/ 302-303) اور قضاعی (مسند الشہاب 1085) کے ہاں موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی تو ثقہ ہیں لیکن یہ سند "منقطع" (درمیان سے ٹوٹی ہوئی) ہے۔
وعن بُشير بن كعب والحسن البصري مرسلًا عند الطبري 4/ 302.
متابعات و شواہد: بشیر بن کعب اور حسن بصری سے یہ روایت "مرسل" طور پر امام طبری (4/ 302) کے ہاں مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7852 سے ماخوذ ہے۔