المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: اپنے ایمان کی تجدید "لا الہ الا اللہ" کے ذریعے کرتے رہا کرو
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخير، عن عُقْبة بن عامر: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ فقال: يا رسولَ الله، أحدُنا يُذنِبُ، قال: "يُكتَبُ عليه" قال: ثم يستغفرُ منه ويتوبُ، قال: "يُغفَرُ له ويُتابُ عليه" قال: فيعودُ فيُذنِبُ، قال: "يُكتَبُ عليه، ولا يَمَلُّ الله حتَّى تَمَلُّوا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7658 - صحيحسیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے“ اس نے عرض کیا: پھر وہ اس سے مغفرت مانگتا اور توبہ کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے“ اس نے عرض کیا: وہ دوبارہ گناہ کر بیٹھتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (دوبارہ) لکھ دیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ (معاف کرنے سے) نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم خود (توبہ کرنے سے) اکتا جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: متابعات اور شواہد کی بنیاد پر اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی حسن ہونے کی وجہ عبد اللہ بن صالح (کاتبِ لیث بن سعد) ہیں، اور ان کی تائید (متابعت) بھی موجود ہے۔
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج پہلے حدیث نمبر 196 کے تحت گزر چکی ہے۔