مستدرکِ حاکم
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: اپنے ایمان کی تجدید "لا الہ الا اللہ" کے ذریعے کرتے رہا کرو
حدیث نمبر: 7849
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حَدَّثَنَا محمد بن الجَهْم بن هارون السِّمَّري، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا صَدَقة بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن واسع، عن سُمَير بن نَهَار، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "قال ربُّكم ﷿: لو أنَّ عبادي أطاعوني لأسقَيتُهم المطرَ بالليل، ولأطلعتُ عليهم الشمسَ بالنَّهار، ولَمَا أسمعتُهم صوتَ الرَّعد" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7657 - صدقة ضعفوهحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے رب عزوجل نے فرمایا: اگر میرے بندے میری اطاعت کرتے تو میں انہیں رات کے وقت بارش عطا کرتا اور دن کے وقت ان پر سورج طلوع فرماتا اور انہیں بجلی کے کڑکنے کی آواز نہ سنواتا۔“
وقال رسول الله ﷺ: "حُسْنُ الظَّن من حُسْن العِبادة" (1).
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا بہترین عبادت میں سے ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف كسابقه، وسلف الكلام عليه برقم (7796).
درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے، اور اس پر کلام حدیث نمبر 7796 کے تحت گزر چکا ہے۔
وأخرجه أحمد (14/ 8709)، وكذا الترمذي (5/ 3604) عن يحيى بن موسى، كلاهما (أحمد ويحيى) عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: غريب من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8709) اور اسی طرح امام ترمذی (5/ 3604) نے یحییٰ بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں (امام احمد اور یحییٰ بن موسیٰ البلخی) ابوداؤد الطیالسی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث اس سند سے "غریب" ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے، اور اس پر کلام حدیث نمبر 7796 کے تحت گزر چکا ہے۔
وأخرجه أحمد (14/ 8709)، وكذا الترمذي (5/ 3604) عن يحيى بن موسى، كلاهما (أحمد ويحيى) عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: غريب من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8709) اور اسی طرح امام ترمذی (5/ 3604) نے یحییٰ بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں (امام احمد اور یحییٰ بن موسیٰ البلخی) ابوداؤد الطیالسی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث اس سند سے "غریب" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7849 سے ماخوذ ہے۔