کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو تم پر حرام کی ہیں
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شقيق قال: اشتكى رجلٌ بطنَه من الصَّفَر، فنُعِتَ له السَّكَرُ، فذكر ذلك لعبد الله، فقال: إِنَّ الله لم يَجْعَلْ شَفاءَكم فيما حَرَّم عليكم (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7509 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7509 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
شقیق سے روایت ہے کہ ایک شخص کو پیٹ میں صفرا (زرداب) کی شکایت ہوئی تو اس کے لیے نشہ آور مشروب «السَّكَرُ» تجویز کیا گیا، جب اس کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو اس نے تم پر حرام کی ہیں۔
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ عبدَربّ ن سعيد حدثه، أنه سمع نافعًا يقول: كان ابنُ عمر إذا دعا طبيبًا يُعالج بعضَ أهله (1)، اشتَرَط عليه أن لا يُداويَ بشيءٍ مما حرَّم الله ﷿ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7510 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7510 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب اپنے گھر کے کسی فرد کے علاج کے لیے طبیب کو بلاتے تو اس پر یہ شرط لگاتے کہ وہ کسی ایسی چیز سے علاج نہ کرے جسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے۔
أخبرني عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن نصر، حدثنا حَرَميُّ بن حَفْص (3)، حدثنا عبد العزيز بن مسلم (4)، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: أتتِ امرأةٌ النبيَّ ﷺ، فذكرت أنَّ بها طَيْفًا من الشيطان، فقال رسول الله ﷺ: "إن شئتِ دعوتُ الله ﷿ فبرَّأَكِ، وإنْ شئتِ، فلا حسابَ ولا عذابَ" قالت: يا رسولَ الله، فدَعْني إذًا (5).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7511 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7511 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اسے شیطان کا اثر (مرگی یا جنون) ہوتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں اللہ عزوجل سے دعا کر دیتا ہوں اور وہ تمہیں تندرست کر دے گا، اور اگر تم چاہو (تو اس بیماری پر صبر کرو) پھر تمہارا کوئی حساب اور عذاب نہیں ہوگا“، اس خاتون نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تب میں (صبر ہی) کروں گی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني طاهر بن محمد (6) بن الحسين البيهقي بيحي آباد، حدثنا خالي الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا الليث بن سعد، حدثني زِيادة (1) بن محمد الأنصاري، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن فَضَالة بن عُبيد أنه قال: جاء رجلانِ من أهل العراق يَلتَمسانِ الشِّفاءَ لأَبٍ لهما حُبِسَ بَوْلُهُ، فَدَلَّه القومُ على فَضَالة، فجاء الرجلان ومعهما، فَضَالة، فذَكَرا الذي بأبيهما، فقال فضالة: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَنِ اشتكى منكم شيئًا -أو اشتكى أخٌ له- فليقل: ربَّنا الذي في السَّماءِ تقدَّسَ اسمُك، أمرُك في السماءِ والأرض، كما رحمتك في السماء والأرض، اغفِرْ لنا حُوبَنا وخَطايانا يا ربَّ الطَّيِّبِينَ، أَنزِلْ شِفاءٌ من شِفائِكَ ورحمةً من رحمتِكَ على هذا الوَجَعِ، فيبرأَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7512 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7512 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل عراق کے دو آدمی اپنے والد کے لیے شفا کی تلاش میں آئے جن کا پیشاب بند ہو گیا تھا، لوگوں نے انہیں فضالہ کی طرف رہنمائی کی، وہ دونوں فضالہ کے پاس آئے اور اپنے والد کی تکلیف کا ذکر کیا، تو فضالہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے جس کسی کو کوئی تکلیف ہو - یا اس کے کسی بھائی کو تکلیف پہنچے - تو اسے چاہیے کہ یہ دعا پڑھے: «رَبَّنَا الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ، أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، اغْفِرْ لَنَا حُوبَنَا وَخَطَايَانَا يَا رَبَّ الطَّيِّبِينَ، أَنْزِلْ شِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ وَرَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ» ”اے ہمارے رب جو آسمان میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین دونوں میں نافذ ہے، جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے ویسے ہی زمین پر بھی (نازل فرما)، اے پاکیزہ لوگوں کے رب! ہمارے گناہوں اور ہماری خطاؤں کو معاف فرما، اپنی شفا میں سے اس تکلیف پر شفا اور اپنی رحمت میں سے رحمت نازل فرما“، تو وہ تندرست ہو جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔