کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تمیمہ (تعویذ) وہ ہے جو بلا آنے سے پہلے (دفعِ بلا کے لیے) لٹکایا جائے
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني طلحة بن أبي سعيد، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن القاسم ابن محمد، عن عائشة قالت: ليست التميمةُ ما تُعلّق به بعد البَلَاء، إنما التميمةُ ما تُعلِّقَ به قبل البلاء (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7506 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تمیمہ (تعویذ) وہ نہیں ہے جو مصیبت آنے کے بعد (علاج کے طور پر) لٹکایا جائے، بلکہ تمیمہ وہ ہے جو مصیبت آنے سے پہلے (اسے ٹالنے کے گمان سے) لٹکایا جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں) اگر کسی کو یہ وہم ہو کہ یہ موقوف روایت ہے تو ایسا نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے کثرت سے تمائم کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ تشریح حدیثِ مسند کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7696
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7696] [ترقيم الشركة 7604] [ترقيم العلميه 7506]
وحدثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن عبد الله، عن القاسم بن محمد، عن عائشة أنها قالت: ليست بتَميمةٍ ما عُلِّقَ بعد أن يقعَ البَلاءُ (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا يتوهَّم أنهما من الموقوفات على عائشة ﵂، وليس كذلك، فإنَّ رسول الله ﷺ قد ذكر التمائم في أخبارٍ كثيرة، فإذا فسَّرَت عائشةُ ﵂ التميمةَ، فإنه حديثٌ مُسنَد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7507 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: وہ چیز تمیمہ نہیں ہے جو مصیبت واقع ہونے کے بعد لٹکائی جائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7697
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7697] [ترقيم الشركة 7605] [ترقيم العلميه 7507]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكيرًا حدثه، أَنَّ أُمَّه حدَّثته: أَنَّها أرسلَتْ إلى عائشة بأخيه مَخرَمة، وكانت تُداوي من قَرْحةٍ تكون بالصِّبيان، فلما داوته عائشةُ وفَرَغَت منه، رأَتْ في رِجلَيه خَلْخالَي (2) حديد، فقالت عائشةُ: أظننتُم أنَّ هذين الخَلْخالَينِ يَدفَعانِ عنه شيئًا كتبه الله عليه؟ لو رأيتُهما ما تَداوَى عندي، وما مُسَّ عندي لَعَمْرِي لَخلخالانِ (1) من فِضَّة أطهرُ من هذين (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7508 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
بکیر کی والدہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے مخرمہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا جبکہ وہ بچوں کے زخموں کا علاج کر رہی تھیں، جب عائشہ رضی اللہ عنہا علاج سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے بچے کے پیروں میں لوہے کی دو پازیبیں دیکھیں، انہوں نے پوچھا: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ لوہے کی پازیبیں اس چیز کو ٹال دیں گی جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھ دی ہے؟ اگر میں انہیں پہلے دیکھ لیتی تو میرے پاس اس کا علاج نہ ہوتا، اور میری زندگی کی قسم! چاندی کی پازیبیں ان دونوں سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7698
درجۂ حدیث محدثین: إسناده فيه لين
تخریج حدیث «إسناده فيه لين، أم بكير لم نقف لها على ترجمة. وهو في جامع ابن وهب" (668» [ترقيم الرساله 7698] [ترقيم الشركة 7606] [ترقيم العلميه 7508]