المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کے متعلق روایات
إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ باب: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو تم پر حرام کی ہیں
حدیث نمبر: 7700
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ عبدَربّ ن سعيد حدثه، أنه سمع نافعًا يقول: كان ابنُ عمر إذا دعا طبيبًا يُعالج بعضَ أهله (1)، اشتَرَط عليه أن لا يُداويَ بشيءٍ مما حرَّم الله ﷿ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7510 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب اپنے گھر کے کسی فرد کے علاج کے لیے طبیب کو بلاتے تو اس پر یہ شرط لگاتے کہ وہ کسی ایسی چیز سے علاج نہ کرے جسے اللہ عزوجل نے حرام قرار دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز): أصحابه.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "أصحابه" کے الفاظ آئے ہیں۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البيهقي 10/ 5 من طريقين عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے دو مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "أصحابه" کے الفاظ آئے ہیں۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البيهقي 10/ 5 من طريقين عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے دو مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7700 سے ماخوذ ہے۔