کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے بیعت لینے سے ہاتھ روک لیا جس کے بازو پر تعویذ بندھا تھا
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا إمامُ المسلمين أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزيمة ﵁، حدثنا محمد بن موسى الحَرَشي، حدثنا سهل بن أسلم العَدَوي، حدثنا يزيد بن أبي منصور، عن الدُّخَين، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني: أنه جاء في رَكْبٍ عشرة إلى النبيِّ ﷺ، فبايع تسعةً وأمسكَ عن رجل منهم، فقالوا: ما شأنُ هذا الرجل لا تبايعُه؟! فقال: "إِنَّ فِي عَضُدِه تَمِيمةً"، فقطع الرجلُ التميمة، فبايعه رسولُ الله ﷺ، ثم قال: "مَن علَّق فقد أشرَكَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7513 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دس سواروں کے ایک قافلے کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان میں سے نو افراد سے بیعت لی اور ایک شخص سے رک گئے، انہوں نے عرض کیا: اس شخص کا کیا معاملہ ہے کہ آپ اس سے بیعت نہیں لے رہے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بازو پر تعویذ بندھا ہوا ہے“، تب اس شخص نے وہ تعویذ کاٹ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے بیعت لی اور پھر فرمایا: ”جس نے (تعویذ) لٹکایا اس نے شرک کیا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7703
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، محمد بن موسى الحرشي» [ترقيم الرساله 7703] [ترقيم الشركة 7611] [ترقيم العلميه 7513]
أخبرنا أبو العباس المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الجُرَيري، عن أبي العلاء، عن عثمان بن أبي العاص قال: قلتُ: يا رسول الله، إِنَّ الشيطانَ قد حالَ بيني وبين صلاتي وقراءتي، فقال: "إنَّ ذلك شيطانٌ يقال له: خنزَبٌ، فإذا أحسَسْتَه فتعوَّذْ بالله منه، واتفُلْ عن يسارك"، قال: ففعلتُ فأذهَبَ الله عنِّي (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7514 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شیطان میری نماز اور میری قرات کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک شیطان ہے جسے ”خنزب“ کہا جاتا ہے، جب تم اسے محسوس کرو تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب (تین بار) تھوک دو“، انہوں نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ نے مجھ سے وہ وسوسہ دور کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7704
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، يزيد بن هارون وإن كان سمع من الجريري» [ترقيم الرساله 7704] [ترقيم الشركة 7612] [ترقيم العلميه 7514]
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْلِ، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا عبد الوارث ابن عبد الصمد، حدثني أبي، حدثنا أبو مَطَر محمد بن سالم، حدثنا ثابت البُنَاني قال: إذا اشتَكيتَ فضَعْ يدك حيث تشتكي، ثم قُلْ: "باسم الله، أعوذُ بعزَّةِ الله وقُدْرتِه من شرِّ ما أجدُ من وَجَعي هذا، ثم ارفَعْ يدَك، ثم أَعِدْ ذلك وِترًا"، فإنَّ أنس بن مالك حدَّثني: أنَّ رسول الله ﷺ حدَّثه بذلك (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7515 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ جب تمہیں کوئی تکلیف ہو تو اپنا ہاتھ وہاں رکھو جہاں درد ہے، پھر کہو: «بِاسْمِ اللَّهِ، أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ مِنْ وَجَعِي هَذَا» ”اللہ کے نام کے ساتھ، میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس شر سے جو میں اپنی اس تکلیف میں محسوس کر رہا ہوں“، پھر اپنا ہاتھ اٹھاؤ اور اسے طاق تعداد میں دہراؤ، کیونکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسی طرح کی ہدایت فرمائی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 7705
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن سالم: وهو الرَّبَعي البصري» [ترقيم الرساله 7705] [ترقيم الشركة 7613] [ترقيم العلميه 7515]