أخبرنا عَبْدان بن يزيد (1) بن يعقوب الدَّقّاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس العسقلاني، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الملك بن عُمَير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة، قال: خرج رسولُ الله ﷺ في ساعةٍ لا يَخرجُ فيها ولا يَلْقاه فيها أحدٌ، فأتاه أبو بكر فقال: "ما جاءَ بك يا أبا بكر؟ " فقال: خرجتُ للُقيِّ رسولِ الله ﷺ والنظرِ في وجهه والسلامِ عليه، فلم يَلبَث أن جاء عمرُ فقال له: "ما جاءَ بك يا عمرُ؟ " قال: الجوعُ يا رسولَ الله، قال: "وأنا قد وَجَدتُ بعضَ ذاكَ"، فانطَلَقوا (2) إلى منزل أبي الهيثم بن التَّيِّهان الأنصاري، وكان رجلًا كثيرَ النَّخل والشَّاءِ، ولم يكن خدمٌ، فلم يَجِدوه، فقالوا لامرأته: أين صاحبُك؟ فقالت: انطلقَ يستعذبُ لنا الماءَ، فلم يَلبَثوا أن جاء أبو الهيثم بقِربة يَزْعُبُها، فوَضَعَها، ثم جاء فالتَزَمَ رسولَ الله ﷺ ويُفدِّيه بأبيه وأمّه، فانطلق بهم إلى حديقة، فبسط لهم بِساطًا، ثم انطلق إلى نخلة فجاء بقِنْوٍ فوضعه، فقال رسول الله ﷺ: "أفلا انتَقَيتَ لنا من رُطَبه؟ " فقال: يا رسولَ الله، إني أردتُ أن تَخَيَّروا من بُسْرِه ورُطَبه، فأكلوا وشربوا من ذلك الماء، فقال رسول الله ﷺ: "هذا واللهِ النعيمُ الذي أنتم عنه مسؤولون يومَ القيامة: ظِلُّ بارد، ورُطَبٌ طيِّب، وماءٌ بارد". فانطلق أبو الهيثم ليصنع لهم طعامًا، فقال له رسول الله ﷺ: "لا تذبحَنَّ ذاتَ دَرٍّ"، فذبح لهم عناقًا أو جَدْيًا، فأتاهم به فأكلوا، فقال له رسول الله ﷺ: "هل لك خادمٌ؟ " قال: لا، قال: "فإذا أتانا سَبْيٌ فأْتِنا"، فأُتِيَ رسولُ الله ﷺ برأسين ليس معهما ثالث، فأتاه أبو الهيثم، فقال له رسول الله ﷺ: "اختَرْ منهما" فقال: يا رسولَ الله، اختَرْ لي، فقال رسول الله ﷺ: "المستشارُ مؤتَمَنٌ، خُذْ هذا، فإني رأيتُه يُصلِّي، واستَوصِ به معروفًا". فانطلق أبو الهيثم بالخادم إلى امرأته، فأخبرها بقول رسولِ الله ﷺ، فقالت له امرأتُه: ما أنتَ ببالغِ ما قال فيه رسولُ الله ﷺ إلَّا أن تُعتِقَه، فقال: هو عَتيقٌ. فقال رسولُ الله ﷺ: "إنَّ الله تعالى لم يَبعَثْ نبيًّا ولا خليفةً إلَّا وله بِطانَتانِ: بطانةٌ تأمرُه بالمعروف وتَنْهاه عن المنكر، وبطانةٌ لا تَأْلُوه خَبَالًا، من يُوقَ بِطانةَ السُّوءِ فقد وُقِيَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن عُبيد وعبد الله بن كَيسان عن عِكْرمة عن ابن عباس، أتمَّ وأطولَ من حديث أبي هريرة هذا. أمّا حديث يونس بن عُبيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ [ص:146]_x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه يونس بن عُبيد وعبد الله بن كَيسان عن عِكْرمة عن ابن عباس، أتمَّ وأطولَ من حديث أبي هريرة هذا. أمّا حديث يونس بن عُبيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ [ص:146]_x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7178 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسی گھڑی میں گھر سے باہر تشریف لائے جس میں آپ ﷺ عام طور پر نہیں نکلا کرتے تھے اور نہ ہی کوئی اس وقت آپ ﷺ سے ملتا تھا، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوبکر! تمہیں اس وقت کیا چیز لے آئی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرنے، آپ کے چہرہِ انور کی زیارت کرنے اور آپ کو سلام پیش کرنے کے لیے نکلا ہوں، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”اے عمر! تمہارے آنے کا کیا سبب ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور مجھے بھی اسی کا کچھ احساس ہوا ہے“، پھر وہ سب مل کر سیدنا ابو الہیثم بن التیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر چلے گئے، وہ کھجوروں کے بہت سے باغات اور بکریوں کے مالک تھے لیکن ان کے پاس کوئی خادم نہ تھا، انہوں نے انہیں گھر پر نہ پایا تو ان کی اہلیہ سے دریافت کیا: تمہارے صاحبِ خانہ کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ ایک وزنی مشکیزہ اٹھائے ہوئے آ گئے، انہوں نے اسے رکھا اور پھر رسول اللہ ﷺ سے لپٹ گئے اور اپنے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا کرنے لگے، پھر وہ انہیں اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے بچھونا بچھایا، پھر وہ ایک کھجور کے درخت کی طرف گئے اور ایک خوشہ توڑ کر لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ہمارے لیے اس میں سے پکی ہوئی کھجوریں نہیں چن لیں؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ تھا کہ آپ گدر اور پکی ہوئی کھجوروں میں سے خود اپنی پسند سے انتخاب فرما لیں، چنانچہ ان سب نے وہ کھجوریں کھائیں اور اس پانی میں سے پیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ وہ نعمت ہے جس کے متعلق تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ [سورة التكاثر: 8]: ٹھنڈا سایہ، عمدہ پکی ہوئی کھجوریں اور ٹھنڈا پانی۔“ پھر ابو الہیثم رضی اللہ عنہ ان کے لیے کھانا تیار کرنے چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”خبردار! دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا“، چنانچہ انہوں نے ان کے لیے بکری کا بچہ یا پٹھا ذبح کیا اور اسے تیار کر کے ان کے پاس لے آئے تو ان سب نے کھایا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا تمہارا کوئی خادم ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو تم ہمارے پاس آنا“، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا، ابو الہیثم رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر لو“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہی میرے لیے پسند فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ» ”جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے، تم اسے لے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔“ ابو الہیثم رضی اللہ عنہ اس خادم کو لے کر اپنی اہلیہ کے پاس پہنچے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے آگاہ کیا، تو ان کی اہلیہ نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کی اس وصیت کے معیار تک نہیں پہنچ سکتے سوائے اس کے کہ اسے آزاد کر دیں، انہوں نے کہا: یہ اللہ کے لیے آزاد ہے، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نبی یا خلیفہ مبعوث نہیں کیا مگر اس کے دو طرح کے رازدان ہوتے ہیں: ایک وہ رازدان جو اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، اور دوسرا وہ جو اسے بگاڑنے اور فتنے میں ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، اور جسے برے ساتھیوں سے بچا لیا گیا وہ (ہر شر سے) محفوظ ہو گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے یونس بن عبید اور عبد اللہ بن کیسان نے عکرمہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔ جہاں تک یونس بن عبید کی حدیث کا تعلق ہے:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے یونس بن عبید اور عبد اللہ بن کیسان نے عکرمہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔ جہاں تک یونس بن عبید کی حدیث کا تعلق ہے:
فأخبَرَنيهِ محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هلال بن بِشر، حدثنا عبد الله بن عيسى أبو خلف الخزّاز، عن يونس بن عُبيد، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: خرجَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ يوم من بيته عند الظَّهيرة، فرأى أبا بكر جالسًا في المسجد، فقال: "يا أبا بكر، ما أخرَجَك هذه الساعةَ؟ " قال: أخرجني الذي أخرجَك يا رسولَ الله، ثم جاء عمرُ، فقال: "ما أخرَجَك يا ابنَ الخطاب؟ " فقال: أخرجني الذي أخرجكما، ثم ذكر الحديث بطوله، وزاد فيه: "فلما خرجَ رسولُ الله ﷺ أخذ بعِضَادَتَي الباب وردَّها، فقال: "أكلَ طعامَكم الأبرارُ، وأفطرَ عندكم الصائمونَ، وصلَّتْ عليكم الملائكةُ" (1). وأمَّا حديث عبد الله بن كَيْسان:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت اپنے گھر سے باہر تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تمہیں اس وقت کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ دونوں کو نکالا ہے، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: جب رسول اللہ ﷺ (کھانا کھانے کے بعد) باہر نکلے تو دروازے کے دونوں بازوؤں کو تھام لیا اور فرمایا: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» ”تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا، تمہارے پاس روزے داروں نے افطار کیا اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعائے رحمت کی۔“
فأخبرَناه أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا أبو مجاهد عبد الله بن كَيْسان، حدثنا عِكرمة، عن ابن عباس، قال: خرجَ أبو بكر بالهاجرة من المسجد، فسمع بذلك عمرُ فخرج، فقال: يا أبا بكر، ما أخرجَك هذه الساعةَ؟ فقال: ما أخرَجَني إلَّا ما أجدُ من حاقِّ الجُوع، فقال: وأنا والذي نفسي بيده ما أخرجني غيرُه، فبينما هما كذلك إذ خرج عليهما النبيُّ ﷺ، فقال: "ما أخرَجَكما هذه الساعةَ؟ " فقالا: والله ما أخرَجَنا إِلَّا ما نجدُ من حاقٌّ الجوع في بطوننا، فقال: "وأنا والذي نفسي بيده ما أخرَجَني غيرُه، فقوما فانطَلِقا حتى نأتيَ بابَ أبي أيوب الأنصاريِّ، وكان يدَّخِرُ للنبيِّ ﷺ طعامًا كان أو لَبنًا، فأبطأَ عنه يومئذٍ، فلم يأتِ لحِينِه (2) فأطعَمَه أهلَه، وانطَلَقَ إلى نخلِه يعملُ فيها، فذكر الحديث بطوله، وزاد فيه: فلما أدركا الطعامَ ووُضِع بين يدي النبيِّ ﷺ وأصحابه، أخذَ من الجَدْي فجعله في رغيف، ثم قال: "يا أبا أيوب، أبلِغْ بهذا فاطمةَ، فإنها لم تُصِبْ مثلَ هذا منذ أيام"، فذهب به أبو أيوب إلى فاطمة، فلما أكلوا وشَبِعُوا، قال النبي ﷺ: "خبزٌ ولحمٌ وتمرٌ وبُسْرٌ ورُطَب! "، ودَمَعَت عيناه، وقال: "والذي نفس محمد بيده، إنَّ هذا لَهُو الذي تُسألون عنه يوم القيامة، قال الله ﷿: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ [التكاثر: 8] فهذا النَّعيم الذي تُسألون عنه يوم القيامة"، فكبُرَ ذلك على أصحابه، فقال: "بلى، إذا أصبتُم مثلَ هذا فضربتُم بأيديكم، فقولوا: باسم الله وبركة الله، فإذا شبعتُم، فقولوا: الحمدُ الله الذي هو أشبَعَنا وأَرْوانا وأنعمَ علينا وأفضلَ، فإنَّ هذا كَفَافُ هذا" (1)، وذكر حديث الوليدةِ باسم أبي أيوب، والمعاني قريبة. وقد رُوي هذا الحديث عن عبد الله بن عمر عن النبي ﷺ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوپہر کی سخت گرمی میں مسجد سے باہر نکلے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو وہ بھی نکل آئے اور پوچھا: اے ابوبکر! آپ اس وقت کیوں نکلے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے سخت بھوک نے ہی نکالا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے بھی اسی نے نکالا ہے، وہ دونوں اسی حال میں تھے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم دونوں کو اس وقت کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہمیں پیٹ کی سخت بھوک کے علاوہ کسی چیز نے نہیں نکالا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے بھی اسی نے نکالا ہے، پس تم دونوں اٹھو اور چلو“، یہاں تک کہ وہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہنچے، وہ نبی کریم ﷺ کے لیے کھانا یا دودھ بچا کر رکھتے تھے، لیکن اس دن آپ ﷺ نے تاخیر کر دی اور اپنے معمول کے وقت پر نہ آئے تو انہوں نے وہ اپنے گھر والوں کو کھلا دیا اور خود کھجوروں کے باغ میں کام کرنے چلے گئے، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: جب کھانا تیار ہو گیا اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے سامنے رکھا گیا، تو آپ ﷺ نے بکری کے بچے کا گوشت لیا اور اسے روٹی کے ٹکڑے پر رکھا، پھر فرمایا: ”اے ابو ایوب! یہ فاطمہ تک پہنچا دو کیونکہ اسے کئی دنوں سے ایسا کھانا میسر نہیں آیا“، چنانچہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ اسے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، پھر جب سب نے کھانا کھایا اور سیر ہو گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”روٹی، گوشت، خشک کھجور، گدر اور تازہ کھجور! “، اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ﴾ ”پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا“ [سورة التكاثر: 8] تو یہ وہ نعمت ہے جس کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا“، یہ بات آپ کے صحابہ پر گراں گزری تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، (تم سے پوچھا جائے گا) لیکن جب تمہیں ایسا رزق ملے اور تم اس کی طرف ہاتھ بڑھاؤ تو کہو: «بِاسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَةِ اللَّهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ کی برکت پر“، اور جب سیر ہو جاؤ تو کہو: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هُوَ أَشْبَعَنَا وَأَرْوَانَا وَأَنْعَمَ عَلَيْنَا وَأَفْضَلَ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر کیا، سیراب کیا اور ہم پر انعام و فضل فرمایا“، کیونکہ یہ (شکر) اس (سوال) کا بدل اور کفایت کرنے والا ہو جائے گا“۔ نیز انہوں نے سیدنا ابو ایوب کے نام سے باندی والی حدیث بھی ذکر کی جس کے معنی قریب ہی ہیں۔
أخبرَناه أبو قُتيبة سَلْم بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا أبو مسلم، حدثنا بكّار بن محمد بن عبد الله بن محمد بن سِيرِين، حدثنا عبد الله بن عمر العُمَري، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ خرج في ساعةٍ لم يكن يخرُجُ فيها، وخرجَ أبو بكر، فقال: "ما أخرجَكَ يا أبا بكر؟ " قال: أخرَجَني الجوعُ، قال: "وأنا أخرَجَني الذي أخرَجَكَ"، ثم جاء عمرُ فقال: "ما أخرجَكَ؟ " قال: الجوعُ، ثم جاء بعد ذلك عدةٌ من أصحابِه، فقال لهم: "انطلِقُوا بنا إلى منزل أبي الهيثم بن التَّيِّهان"، وذكر الحديث (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے وقت میں (گھر سے) باہر تشریف لائے جس میں آپ ﷺ عموماً باہر نہیں نکلتے تھے، وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوبکر! تمہیں اس وقت کس چیز نے باہر نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے بھوک نے نکالا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تمہیں نکالا ہے“، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: بھوک نے، پھر اس کے بعد آپ ﷺ کے کئی اور صحابہ بھی آ گئے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر چلو“، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان، عن أبي الزَّعْراء، عن عمِّه أبي الأحوص، قال: قال عبد الله: كنا نَعُدُّ الإمَّعةَ في الجاهلية الرجلَ يُدعَى إلى الطعام فيذهبُ بآخرَ معه ولم يُدْعَ، وهو اليومَ فيكم المُحقِبُ دينَه الرِّجالَ (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوي بإسناد صحيح شاهد [له]:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم دورِ جاہلیت میں ”امعہ“ (بے پیندی کا لوٹا یا دوسروں کے پیچھے چلنے والا) اس شخص کو کہتے تھے جسے کھانے کی دعوت دی جاتی تھی اور وہ اپنے ساتھ کسی دوسرے کو بھی لے جاتا تھا جسے دعوت نہیں دی گئی ہوتی تھی، جبکہ آج تمہارے درمیان ”امعہ“ وہ شخص ہے جو دین کے معاملے میں لوگوں کی اندھی تقلید کرے (آنکھیں بند کر کے لوگوں کے پیچھے چل پڑے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سليمان بن حرب وعمرو بن مرزوق، قالا: حدثنا شُعبة، عن إبراهيم الهَجَري، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، قال: كُنَّا نسمِّي الإمَّعةَ في الجاهلية الرجل يُدعى إلى الطعام فيَتبَعُه الرجلُ، وهو اليومَ الذي يُحقِبُ الناسَ دينَه، فكنا نسمّي العِضَةَ السِّحرَ، وهو اليومَ قيلَ وقالَ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم دورِ جاہلیت میں ”امعہ“ اس شخص کو کہتے تھے جسے کھانے پر بلایا جاتا اور اس کے پیچھے کوئی دوسرا (بن بلایا) چل پڑتا، اور آج اس سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کی اندھی تقلید میں اپنا دین ان کے سپرد کر دیتا ہے؛ اور ہم ”عضہ“ (جادو یا بہتان) کو سحر (جادو) کہتے تھے، جبکہ آج وہ قیل و قال (بغیر تحقیق باتیں کرنا) ہے۔
اس کا ایک صحیح اسناد والا شاہد مروی ہے۔
اس کا ایک صحیح اسناد والا شاہد مروی ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثني أَبي، أخبرنا الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن أبي طلحة - وهو نُعيم بن زياد - عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: "أَيُّما ضَيفٍ نزلَ بقومٍ فأصبحَ الضَّيفُ محرومًا، فله أن يأخذَ بقَدْرِ قِرَاهُ، ولا حَرَجَ عليه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو مہمان کسی قوم کے پاس اترے اور اس مہمان کو (اس کے حقِ مہمانی سے) محروم رکھا جائے، تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مہمانی کی قدر کے برابر ان سے (بغیر اجازت) لے لے اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح اسناد والا شاہد بھی موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح اسناد والا شاہد بھی موجود ہے۔
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفرَّاء، حدثنا عمار بن عبد الجبار، حدثنا شُعبة، عن أبي الجُوديِّ، عن سعيد بن المهاجر، عن المِقدام بن أبي كَريمة، عن النبيِّ ﷺ قال: "أيُّما مسلمٍ أضافَ قومًا فأصبحَ الضَّيفُ محرومًا، فإنَّ حقًّا على كلِّ مسلمٍ نصرُه حتى يأخُذَ بقِرَى ليلتِه من زرعِه ومالِه" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7179 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7179 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مقدام بن ابی کریمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان کسی قوم کا مہمان بنے اور وہ مہمان (اپنے حق سے) محروم رہ جائے، تو ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی مدد کرے یہاں تک کہ وہ ان کی کھیتی اور مال سے اپنی ایک رات کی مہمانی کا حق حاصل کر لے۔“
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال: "إذا أتيتَ على راعٍ فنادِه ثلاثَ مرَّات، فإنْ أجابكَ وإلَّا فاشرَبْ من غير أن تُفسِدَ، وإذا أتيتَ على حائطِ بُستانٍ فنادِ صاحبَ البستانِ ثلاثَ مرَّات، فإنْ أجابكَ وإلَّا فكُلْ من غير أن تُفسِدَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7180 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7180 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو اسے تین بار پکارو، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ورنہ تم (دودھ) پی لو مگر اسے ضائع نہ کرو، اور جب تم کسی باغ کی دیوار کے پاس آؤ تو باغ کے مالک کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر ورنہ تم اس میں سے کھا لو لیکن نقصان نہ پہنچاؤ۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔