حدیث نمبر: 7356
فأخبَرَنيهِ محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هلال بن بِشر، حدثنا عبد الله بن عيسى أبو خلف الخزّاز، عن يونس بن عُبيد، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: خرجَ رسولُ الله ﷺ ذاتَ يوم من بيته عند الظَّهيرة، فرأى أبا بكر جالسًا في المسجد، فقال: "يا أبا بكر، ما أخرَجَك هذه الساعةَ؟ " قال: أخرجني الذي أخرجَك يا رسولَ الله، ثم جاء عمرُ، فقال: "ما أخرَجَك يا ابنَ الخطاب؟ " فقال: أخرجني الذي أخرجكما، ثم ذكر الحديث بطوله، وزاد فيه: "فلما خرجَ رسولُ الله ﷺ أخذ بعِضَادَتَي الباب وردَّها، فقال: "أكلَ طعامَكم الأبرارُ، وأفطرَ عندكم الصائمونَ، وصلَّتْ عليكم الملائكةُ" (1). وأمَّا حديث عبد الله بن كَيْسان:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت اپنے گھر سے باہر تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تمہیں اس وقت کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ دونوں کو نکالا ہے، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: جب رسول اللہ ﷺ (کھانا کھانے کے بعد) باہر نکلے تو دروازے کے دونوں بازوؤں کو تھام لیا اور فرمایا: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» ”تمہارا کھانا نیک لوگوں نے کھایا، تمہارے پاس روزے داروں نے افطار کیا اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعائے رحمت کی۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7356
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف. وسلف مكررًا برقم (5334).» [ترقيم الرساله 7356]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف. وسلف مكررًا برقم (5334).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے بھی مکرر طور پر رقم (5334) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7356 سے ماخوذ ہے۔