حدیث نمبر: 7361
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثني أَبي، أخبرنا الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن أبي طلحة - وهو نُعيم بن زياد - عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: "أَيُّما ضَيفٍ نزلَ بقومٍ فأصبحَ الضَّيفُ محرومًا، فله أن يأخذَ بقَدْرِ قِرَاهُ، ولا حَرَجَ عليه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو مہمان کسی قوم کے پاس اترے اور اس مہمان کو (اس کے حقِ مہمانی سے) محروم رکھا جائے، تو اسے حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مہمانی کی قدر کے برابر ان سے (بغیر اجازت) لے لے اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک صحیح اسناد والا شاہد بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7361
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 7361]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8948) عن قتيبة بن سعيد، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 14/ (8948) میں قتیبہ بن سعید عن لیث بن سعد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "بقدر قِراه" بكسر القاف: هو ما يصنع للضيف من طعام وشراب. وانظر في حكمه "فتح الباري" لابن حجر عند الحديثين (2461) و (6137).
نوٹ / توضیح: قول "بقدر قِراه" (قاف کے نیچے زیر کے ساتھ): اس سے مراد وہ کھانا اور مشروب ہے جو مہمان کی مہمانی کے لیے تیار کیا جائے۔
مجموعی اصول / قاعدہ: اس کے شرعی حکم کی تفصیل کے لیے حافظ ابن حجر کی "فتح الباری" حدیث نمبر (2461) اور (6137) کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7361 سے ماخوذ ہے۔