کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حکمرانی ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا شُعيب بن الليث بن سعد، حدثني أبي، عن يحيى بن سعيد، عن الحارث بن يزيد الحضرمي: أنَّ أبا ذرٍّ قال لرسول الله ﷺ: أمِّرْني، فقال: "إنَّك ضعيفٌ وإنها أمانةٌ، وإنها يومَ القيامة خِزيٌ ونَدَامة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيّب عن أبي ذرٍّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7019 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيّب عن أبي ذرٍّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7019 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: مجھے کسی جگہ کا امیر بنا دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم (اس معاملے میں) کمزور ہو اور یہ ایک امانت ہے، اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا باعث ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ روایت یحییٰ بن سعید نے سعید بن مسیب کے واسطے سے ابوذر سے نقل کی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ روایت یحییٰ بن سعید نے سعید بن مسیب کے واسطے سے ابوذر سے نقل کی ہے۔
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا صَدَقة بن موسى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المُسيّب، عن أبي ذر قال: قلتُ: يا رسولَ الله أمِّرني، قال: "الإمارةُ أمانةٌ، وهي يومَ القيامة خِزْيٌ ونَدامة، إِلَّا من أَمَرَ بحقّ وأدَّى بالحقِّ عليه فيها" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی کام کا ذمہ دار (امیر) بنا دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حکمرانی ایک امانت ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہے، سوائے اس شخص کے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور اس میں اپنی ذمہ داریوں کو حق کے ساتھ ادا کیا۔“
أخبرني أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن بلال بن أبي موسى، عن أنس بن مالك: أنَّ الحجّاج أراد أن يجعله على قضاء البصرة، فقال أنسٌ: سمعتُ النبي ﷺ يقول: "مَن طَلَبَ القضاءَ واستعان عليه وُكِلَ إليه، ومن لم يَطلُبْه ولم يَستعِنْ عليه، وُكِّلَ به ملكٌ يُسدِّدُه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7021 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7021 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجاج (بن یوسف) نے ارادہ کیا کہ انہیں بصرہ کا قاضی مقرر کر دے، تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے منصبِ قضا (جج بننا) طلب کیا اور اس پر دوسروں سے مدد مانگی تو اسے اسی کے حوالے کر دیا جاتا ہے، اور جس نے اسے طلب نہیں کیا اور نہ ہی اس پر مدد مانگی تو اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو اسے درست فیصلے کی راہ دکھاتا (تسدید کرتا) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد العزيز عن إسماعيل بن عبيد الله، أن سليمان بن حبيب حدَّثهم عن أبي أُمامة الباهلي، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لتُنتَقَضَنَّ عُرَى الإسلام عُروةً عُروةً، فكلما انتقضَتْ عُرُوةٌ تَشبَّثَتْ بالتي يَلِيها (2)، وأولُ نَقضِها الحُكْمُ، وآخرُها الصَّلاةُ" (3). قال الحاكم رحمه الله تعالى: عبد العزيز: هذا هو ابن عُبيد الله بن حمزة بن صهيب (1)، وإسماعيل: هو ابن عبيد الله بن [أبي] المُهاجر، والإسناد كله صحيح، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی کڑیاں (عروہ) ایک ایک کر کے ٹوٹ جائیں گی، پس جب بھی ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس سے اگلی کڑی کو مضبوطی سے پکڑ لیں گے، ان کڑیوں میں سب سے پہلے حکمرانی (حکم) کی کڑی ٹوٹے گی اور سب سے آخر میں نماز کی۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: اس سند میں عبدالعزیز سے مراد عبدالعزیز بن عبید اللہ بن حمزہ بن صہیب ہیں اور اسماعیل سے مراد اسماعیل بن عبید اللہ بن ابی مہاجر ہیں، اور یہ پوری سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اس سند میں عبدالعزیز سے مراد عبدالعزیز بن عبید اللہ بن حمزہ بن صہیب ہیں اور اسماعیل سے مراد اسماعیل بن عبید اللہ بن ابی مہاجر ہیں، اور یہ پوری سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يزيد بن عبد العزيز الطَّيالسي، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حسين بن قيس الرَّحَبي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن استعملَ رجلًا من عِصابة، وفي تلك العِصابة مَنْ هو أرضَى لله منه، فقد خانَ الله وخانَ رسولَه وخانَ المؤمنين" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7023 - حذفه الذهبي من التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7023 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی گروہ یا جماعت پر کسی ایسے شخص کو عامل (ذمہ دار) مقرر کیا حالانکہ اس جماعت میں کوئی دوسرا ایسا شخص موجود تھا جو اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ (اور اہل) تھا، تو یقیناً اس (مقرر کرنے والے) نے اللہ، اس کے رسول اور تمام مومنین کے ساتھ خیانت کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن الحسن بن أحمد الحَرَّاني، حدثنا جَدِّي، حدثنا موسى بن أعيَن، عن بكر بن حُنَيس (1)، عن رجاء بن حَيْوة، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن يزيد بن أبي سفيان، قال: قال لي أبو بكر الصِّديِّق حين بعثني إلى الشام: يا يزيدُ إنَّ لك قرابةً عَسَيتَ أن تُؤثرَهم بالإمارة، ذلك أكثرُ ما أخافُ عليك، فقد قال رسول الله ﷺ: "مَنْ وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا، فأمَّرَ عليهم أحدًا محاباةً (2)، فعليه لعنةُ الله، لا يَقبَلُ اللهُ منه صرفًا ولا عَدْلًا حتى يُدخِلَه جهنَّمَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے فرمایا: اے یزید! تمہارے کچھ رشتے دار ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم انہیں حکمرانی میں ترجیح (جانبداری) دو، یہ وہ سب سے بڑی بات ہے جس کا مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جسے مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا جائے، پھر وہ محض جانبداری و رعایت «مُحَابَاةً» کی بنیاد پر کسی کو ان کا امیر مقرر کر دے، تو اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ اس کا کوئی نفل (صرف) اور نہ ہی کوئی فرض (عدل) قبول کرے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں داخل کر دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔