المستدرك على الصحيحين
كتاب الأحكام— احکام کا بیان
الْإِمَارَةُ أَمَانَةٌ وَهِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ باب: حکمرانی ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن الحسن بن أحمد الحَرَّاني، حدثنا جَدِّي، حدثنا موسى بن أعيَن، عن بكر بن حُنَيس (1)، عن رجاء بن حَيْوة، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن يزيد بن أبي سفيان، قال: قال لي أبو بكر الصِّديِّق حين بعثني إلى الشام: يا يزيدُ إنَّ لك قرابةً عَسَيتَ أن تُؤثرَهم بالإمارة، ذلك أكثرُ ما أخافُ عليك، فقد قال رسول الله ﷺ: "مَنْ وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا، فأمَّرَ عليهم أحدًا محاباةً (2)، فعليه لعنةُ الله، لا يَقبَلُ اللهُ منه صرفًا ولا عَدْلًا حتى يُدخِلَه جهنَّمَ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب مجھے شام کی طرف روانہ کیا تو مجھ سے فرمایا: اے یزید! تمہارے کچھ رشتے دار ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم انہیں حکمرانی میں ترجیح (جانبداری) دو، یہ وہ سب سے بڑی بات ہے جس کا مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جسے مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا جائے، پھر وہ محض جانبداری و رعایت «مُحَابَاةً» کی بنیاد پر کسی کو ان کا امیر مقرر کر دے، تو اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ اس کا کوئی نفل (صرف) اور نہ ہی کوئی فرض (عدل) قبول کرے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں داخل کر دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف (غلطی) ہو کر "حنش" ہو گیا ہے۔
(2) المثبت من "مسند أحمد"، وفي نسخنا الخطية: محاماة!
اہم نکتہ: جو متن ہم نے ثابت کیا ہے وہ "مسند احمد" سے ہے، جبکہ ہمارے قلمی نسخوں میں (غلطی سے) "محاماة" (حمایت/طرفداری) لکھا ہوا ہے!
(3) إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: اس کی سند بكر بن خنیس کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور امام ذہبی نے بھی اپنی "تلخیص" میں اسی وجہ سے اس پر علت (اعتراض) لگائی ہے۔
وأخرجه أحمد 1/ (21) من طريق بقية بن الوليد، عن شيخ قرشي، عن رجاء بن حيوة، بهذا الإسناد، مطولًا. وهذا إسناد ضعيف أيضًا لإبهام الشيخ القرشي، وبقية ليس بذاك القوي.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (1/21) نے بقیہ بن ولید کے طریق سے ایک "شیخ قرشی" (گمنام قریشی شخص) سے، انہوں نے رجاء بن حيوہ سے طویل روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند بھی ضعیف ہے کیونکہ "شیخ قرشی" مبہم (نامعلوم) ہے، اور بقیہ بن ولید بھی کوئی زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔