حدیث نمبر: 7196
أخبرَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا صَدَقة بن موسى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المُسيّب، عن أبي ذر قال: قلتُ: يا رسولَ الله أمِّرني، قال: "الإمارةُ أمانةٌ، وهي يومَ القيامة خِزْيٌ ونَدامة، إِلَّا من أَمَرَ بحقّ وأدَّى بالحقِّ عليه فيها" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی کام کا ذمہ دار (امیر) بنا دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حکمرانی ایک امانت ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہے، سوائے اس شخص کے جس نے اسے حق کے ساتھ لیا اور اس میں اپنی ذمہ داریوں کو حق کے ساتھ ادا کیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7196
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة بن موسى.» [ترقيم الرساله 7196] [ترقيم الشركة 7115]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صدقة بن موسى.
درجۂ حدیث: متن کے اعتبار سے حدیث صحیح ہے، البتہ یہ (خاص) سند "صدقہ بن موسیٰ" (الدقیقی) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو نعيم الأصبهاني في "مسند أبي حنيفة" ص 259 من طريقه عن الهيثم بن حبيب عن الحسن البصري عن أبي ذر فذكره. وسنده منقطع، فالحسن لم يسمع من أبي ذر.
حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم اصبہانی نے "مسند ابی حنیفہ" (ص 259) میں صدقہ بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے، جو ہیثم بن حبیب سے، وہ حسن بصری سے اور وہ حضرت ابوذر سے روایت کرتے ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند منقطع ہے کیونکہ حسن بصری کا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7196 سے ماخوذ ہے۔