کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ کا اپنی ازواج کے لیے بارہ اوقیہ مہر مقرر کرنا
فأخبرني مخلد بن جعفر الباقَرْحيُّ، حدّثنا محمد بن جَرير الفقيه، حدَّثني الحارث بن محمد، حدّثنا محمد بن سعد، حدّثنا محمد بن عمر، حدَّثني إسحاق بن محمد، عن جعفر بن محمد بن عليّ، عن أبيه قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ عمرَو بن أُميّة الضَّمْري إلى النجاشي يَخطُب عليه أمَّ حبيبة بنت أبي سفيان، وكانتَ تحت عُبيد الله بن جَحْش، فزوَّجها إياه، وأصدَقَها النجاشيُّ من عنده عن رسول الله ﷺ أربعَ مئة دينار (2). قال أبو جعفر محمد بن جرير: فما نُرَى عبد الملك بن مروان وَقَّتَ صَدَاق النِّساء أربع مئة دينار إلَّا لذلك.
حافظ طلحہ بابر
جعفر بن محمد بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری کو شاہِ نجاشی کی طرف بھیجا تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام دیں، وہ اس وقت عبید اللہ بن جحش کے نکاح میں (رہ چکی) تھیں، چنانچہ نجاشی نے ان کا نکاح کر دیا اور اپنی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ان کا مہر چار سو دینار ادا کیا۔ ابوجعفر محمد بن جریر کہتے ہیں: ہمارا گمان ہے کہ عبدالملک بن مروان نے جو خواتین کا مہر چار سو دینار مقرر کیا تھا وہ اسی واقعے کی اتباع میں تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6927
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف الحارث بن محمد هو ابن أبي أسامة، وإسحاق بن محمد: هو ابن عبد الرحمن المخزومي.» [ترقيم الرساله 6927] [ترقيم الشركة 6847]
فحدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق الحربيّ، حدّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيريّ، حدّثنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن: أنه سألَ (1) عائشةَ زَوجَ النبيِّ ﷺ: كم أصدقَ رسولُ الله ﷺ أزواجَه؟ قالت: كان صداقهُ لأزواجه اثنتي عشرةَ (2) أُوقيّةً ونَشًّا، قالت: تدري ما النَّشُّ؟ قال: قلت: لا، قالت: نصف أُوقيّة، فذلك خمسُ مئة درهم، فهذا صَدَاقُ رسول الله ﷺ لأزواجه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، وعليه العملُ، وإنما أصدقَ النجاشيُّ أمَّ حبيبة أربعَ مئة دينار استعمالًا لأخلاق الملوك في المبالغة في الصنائع الاستعانة النبيِّ ﷺ به في ذلك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6772 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج کا کتنا مہر مقرر فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے لیے مہر بارہ اوقیہ اور ایک «نَشٌّ» (نیش) ہوا کرتا تھا، پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ «نَشٌّ» کیا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد آدھا اوقیہ ہے، یوں کل رقم پانچ سو درہم بنتی ہے، یہی رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے لیے مقرر کردہ مہر تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسی پر عمل ہے، اور نجاشی نے جو سیدہ ام حبیبہ کا مہر چار سو دینار مقرر کیا تھا وہ شاہانہ اخلاق اور مروت کے طور پر مبالغے کی حد تک سخاوت کا مظاہرہ تھا جس کے ذریعے انہوں نے اس معاملے میں نبی کریم ﷺ کی معاونت کی تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6928
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد: وهو الدَّراوردي. محمد بن إبراهيم: هو التيمي. وسلف برقم (2775).» [ترقيم الرساله 6928] [ترقيم الشركة 6848] [ترقيم العلميه 6772]
أخبرنا أبو عبد الله الأصبهانيّ، حدّثنا الحسن بن الجَهْم، حدّثنا الحسين بن الفَرَج، حدّثنا محمد بن عمر، حدّثنا عبد الرحمن بن عبد العزيز، عن الزُّهريّ قال: جهَّز النجاشيُّ أمُّ حبيبة إلى رسولِ الله ﷺ، وبعث بها معَ شُرَحْبيل بن حَسَنة (4).
حافظ طلحہ بابر
امام زہری سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ شاہِ نجاشی نے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کا سامان تیار کیا اور انہیں شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6929
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح، وهذا إسناده ضعيف.
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناده ضعيف. وسلف بسند صحيح موصولًا برقم (2776).» [ترقيم الرساله 6929] [ترقيم الشركة 6849]
قال ابن عمر: وحدثني عبد الله بن جعفر عن عبد الواحد بن أبي عون قال: لما بلغ أبا سفيان بن حرب نكاح النبيّ ﷺ ابنتَه، قال: ذاك الفحل لا يُقرَعُ أنفُه (1).
حافظ طلحہ بابر
عبدالواحد بن ابی عون سے روایت ہے کہ جب ابوسفیان بن حرب کو نبی کریم ﷺ کے اپنی صاحبزادی سے نکاح کی خبر ملی تو انہوں نے (بطور تعریف و اعتراف) کہا: ”وہ ایسا عالی نسب شہسوار ہے جس کی ناک کو دبایا نہیں جا سکتا (یعنی وہ عیب لگانے یا رد کیے جانے کے قابل نہیں)۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6930
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6930] [ترقيم الشركة 6850]
قال ابن عمر: وحدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن عبد المجيد بن سُهيل، عن عوف بن الحارث قال: سمعتُ عائشةَ تقول: دَعَتْني أمُّ حبيبة زَوجُ النبيِّ ﷺ عند موتها، فقالت: قد كان بيننا ما يكونُ بين الضرائر، فغفَرَ الله ذلك كلَّه وتجاوزَ، وحلَّلتُكِ من ذلك كلِّه. فقالت عائشة: سرَرتِني سَرَّكِ الله، وأرسلَتْ إلى أمِّ سلمة، فقالت لها مثلَ ذلك. وتُوفِّيت سنةَ أربعٍ وأربعين في إمارة معاويةَ ﵄ (2). ذكرُ زينبَ بنت جَحْش ﵂
حافظ طلحہ بابر
عوف بن حارث سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفات کے وقت مجھے بلایا اور کہا: ”ہمارے درمیان سوکنوں والے (فطری رشک و خلش کے) جو معاملات پیش آیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب کو معاف فرمائے اور درگزر کرے، اور میں نے آپ کو ان تمام باتوں سے بری الذمہ کر دیا ہے۔“ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”آپ نے مجھے خوش کر دیا ہے، اللہ آپ کو خوش رکھے۔“ پھر انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھی یہی پیغام بھیجا۔ ان کی وفات سنہ 44 ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں ہوئی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6931
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، ابن أبي سبرة متهم.» [ترقيم الرساله 6931] [ترقيم الشركة 6851]