المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً باب: نبی کریم ﷺ کا اپنی ازواج کے لیے بارہ اوقیہ مہر مقرر کرنا
حدیث نمبر: 6927
فأخبرني مخلد بن جعفر الباقَرْحيُّ، حدّثنا محمد بن جَرير الفقيه، حدَّثني الحارث بن محمد، حدّثنا محمد بن سعد، حدّثنا محمد بن عمر، حدَّثني إسحاق بن محمد، عن جعفر بن محمد بن عليّ، عن أبيه قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ عمرَو بن أُميّة الضَّمْري إلى النجاشي يَخطُب عليه أمَّ حبيبة بنت أبي سفيان، وكانتَ تحت عُبيد الله بن جَحْش، فزوَّجها إياه، وأصدَقَها النجاشيُّ من عنده عن رسول الله ﷺ أربعَ مئة دينار (2). قال أبو جعفر محمد بن جرير: فما نُرَى عبد الملك بن مروان وَقَّتَ صَدَاق النِّساء أربع مئة دينار إلَّا لذلك.
حافظ طلحہ بابر
جعفر بن محمد بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری کو شاہِ نجاشی کی طرف بھیجا تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام دیں، وہ اس وقت عبید اللہ بن جحش کے نکاح میں (رہ چکی) تھیں، چنانچہ نجاشی نے ان کا نکاح کر دیا اور اپنی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ان کا مہر چار سو دینار ادا کیا۔ ابوجعفر محمد بن جریر کہتے ہیں: ہمارا گمان ہے کہ عبدالملک بن مروان نے جو خواتین کا مہر چار سو دینار مقرر کیا تھا وہ اسی واقعے کی اتباع میں تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف الحارث بن محمد هو ابن أبي أسامة، وإسحاق بن محمد: هو ابن عبد الرحمن المخزومي.
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، مگر موجودہ سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حارث بن محمد سے مراد ابن ابی اسامہ ہیں، اور اسحاق بن محمد سے مراد ابن عبدالرحمن مخزومی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 96 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 606، وابن عساكر 69/ 138 - عن الواقديّ، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (6963) وكلام الحافظ ابن حجر الذي نقلناه هناك. وانظر ما سلف برقم (2776).
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 96)، طبری (11/ 606) اور ابن عساکر (69/ 138) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ سابقہ نمبر (6963) اور حافظ ابن حجر کا کلام دیکھیں، نیز نمبر (2776) بھی دیکھیں۔
درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، مگر موجودہ سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حارث بن محمد سے مراد ابن ابی اسامہ ہیں، اور اسحاق بن محمد سے مراد ابن عبدالرحمن مخزومی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 96 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 606، وابن عساكر 69/ 138 - عن الواقديّ، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (6963) وكلام الحافظ ابن حجر الذي نقلناه هناك. وانظر ما سلف برقم (2776).
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 96)، طبری (11/ 606) اور ابن عساکر (69/ 138) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ سابقہ نمبر (6963) اور حافظ ابن حجر کا کلام دیکھیں، نیز نمبر (2776) بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6927 سے ماخوذ ہے۔