حدیث نمبر: 6928
فحدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق الحربيّ، حدّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيريّ، حدّثنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن: أنه سألَ (1) عائشةَ زَوجَ النبيِّ ﷺ: كم أصدقَ رسولُ الله ﷺ أزواجَه؟ قالت: كان صداقهُ لأزواجه اثنتي عشرةَ (2) أُوقيّةً ونَشًّا، قالت: تدري ما النَّشُّ؟ قال: قلت: لا، قالت: نصف أُوقيّة، فذلك خمسُ مئة درهم، فهذا صَدَاقُ رسول الله ﷺ لأزواجه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، وعليه العملُ، وإنما أصدقَ النجاشيُّ أمَّ حبيبة أربعَ مئة دينار استعمالًا لأخلاق الملوك في المبالغة في الصنائع الاستعانة النبيِّ ﷺ به في ذلك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6772 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج کا کتنا مہر مقرر فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے لیے مہر بارہ اوقیہ اور ایک «نَشٌّ» (نیش) ہوا کرتا تھا، پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ «نَشٌّ» کیا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد آدھا اوقیہ ہے، یوں کل رقم پانچ سو درہم بنتی ہے، یہی رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے لیے مقرر کردہ مہر تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسی پر عمل ہے، اور نجاشی نے جو سیدہ ام حبیبہ کا مہر چار سو دینار مقرر کیا تھا وہ شاہانہ اخلاق اور مروت کے طور پر مبالغے کی حد تک سخاوت کا مظاہرہ تھا جس کے ذریعے انہوں نے اس معاملے میں نبی کریم ﷺ کی معاونت کی تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6928
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد: وهو الدَّراوردي. محمد بن إبراهيم: هو التيمي. وسلف برقم (2775).» [ترقيم الرساله 6928] [ترقيم الشركة 6848] [ترقيم العلميه 6772]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (م) و (ص): قال: سألت.
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں "قال: سألت" کے الفاظ ہیں۔
(2) في (ز) و (م) و (ب): اثني عشر.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں "اثنی عشر" (بارہ) ہے۔
(3) إسناده قوي من أجل عبد العزيز بن محمد: وهو الدَّراوردي. محمد بن إبراهيم: هو التيمي. وسلف برقم (2775).
درجۂ حدیث: یہ سند "قوی" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کیونکہ اس میں عبدالعزیز بن محمد (الدراوردی) موجود ہیں۔ محمد بن ابراہیم سے مراد "تیمی" ہیں۔ یہ روایت نمبر (2775) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6928 سے ماخوذ ہے۔