کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھنا
أخبرني أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرميّ، حَدَّثَنَا أبو كُريب، حَدَّثَنَا أبو خالد الأحمر، حدَّثني رَزين، حدثتني سَلْمى (4) قالت: دخلتُ على أمِّ سلمة وهي تبكيّ، فقلتُ: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يبكي في المنام وعلى رأسه ولحيتِه التُّرابُ، فقلتُ: ما لكَ يا رسولَ الله؟ قال: "شهدت قتلَ الحُسين آنفًا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6764 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6764 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سلمیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو وہ رو رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے ابھی خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ہے، آپ ﷺ رو رہے تھے اور آپ کے سر مبارک اور داڑھی مبارک پر مٹی تھی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ابھی ابھی حسین کے قتل کے مقام پر حاضر تھا۔““
أخبرنا أبو عبد الله (2) الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهران، أخبرنا عُبيد الله (3) ابن موسى، أخبرنا إسماعيل بن نَشيط قال: سمعتُ شَهْرَ بن حوشَب قال: أتيتُ أمُّ سلمة أُعزّيها بقتل الحسين بن علي (4).
حافظ طلحہ بابر
شہر بن حوشب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت پر تعزیت کے لیے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني حَبيب بن أبي ثابت، أنَّ عبد الحميد بن [أبي] عمرو والقاسم بن محمد أخبراه، أنهما سمعا أبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام يُخبر، أنَّ أمَّ سلمة زوجَ النَّبِيِّ ﷺ أخبرتهم: أنها ابنةُ أبي أُمية بن المغيرة فكذَّبوها، وقالوا: ما أكذب الغريبَ! حتَّى أنشأ ناسٌ إلى الحجَّ، فقيل لها: تكتبينَ إلى أهلك؟ فكتبَتْ معهم، فازدادوا لها كرامةً. قالت أمِّ سلمة: فلما وضعتُ زينب تزوَّجني رسولُ الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6766 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6766 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے لوگوں کو بتایا کہ وہ (مکہ کے سردار) ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں تو لوگوں نے انہیں جھٹلا دیا اور (بطور طنز) کہنے لگے: ”مسافر کتنا جھوٹ بولتا ہے!“ یہاں تک کہ جب کچھ لوگ حج کے لیے روانہ ہونے لگے تو ان سے پوچھا گیا: کیا آپ اپنے گھر والوں کو کوئی خط لکھیں گی؟ انہوں نے ان کے ہاتھ خط بھیجا (جس کی تصدیق کے بعد) لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت اور بڑھ گئی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ”جب میں نے زینب کو جنم دیا تو اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا۔“
أخبرني أحمد بن محمد (2) بن بالويهِ العَفْصيّ، حَدَّثَنَا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الحميد، حَدَّثَنَا خالد وجَرير، عن عطاء بن السائب قال: كُنَّا قعودًا مع مُحارِب بن دِثار فقال: حدَّثني ابنٌ لسعيد بن زيد: أنَّ أمَّ سلمة أوصت أن يُصلِّيَ عليها سعيدُ بن زيد، خَشْية أن يُصلِّي عليها مروانُ بن الحَكَم (3). ذكر أمِّ حَبيبةَ بنتِ أبي سفيان ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6767 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6767 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عطاء بن سائب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم محارب بن دثار کے ساتھ بیٹھے تھے تو انہوں نے بتایا کہ مجھے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نے حدیث بیان کی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ ان کی نماز جنازہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ پڑھائیں، کیونکہ انہیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں مروان بن حکم ان کا جنازہ نہ پڑھائے۔