المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
رُؤْيَةُ أُمِّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ بَعْدَ شَهَادَةِ الْحُسَيْنِ باب: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھنا
حدیث نمبر: 6921
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني حَبيب بن أبي ثابت، أنَّ عبد الحميد بن [أبي] عمرو والقاسم بن محمد أخبراه، أنهما سمعا أبا بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام يُخبر، أنَّ أمَّ سلمة زوجَ النَّبِيِّ ﷺ أخبرتهم: أنها ابنةُ أبي أُمية بن المغيرة فكذَّبوها، وقالوا: ما أكذب الغريبَ! حتَّى أنشأ ناسٌ إلى الحجَّ، فقيل لها: تكتبينَ إلى أهلك؟ فكتبَتْ معهم، فازدادوا لها كرامةً. قالت أمِّ سلمة: فلما وضعتُ زينب تزوَّجني رسولُ الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6766 - حذفه الذهبي من التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے لوگوں کو بتایا کہ وہ (مکہ کے سردار) ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں تو لوگوں نے انہیں جھٹلا دیا اور (بطور طنز) کہنے لگے: ”مسافر کتنا جھوٹ بولتا ہے!“ یہاں تک کہ جب کچھ لوگ حج کے لیے روانہ ہونے لگے تو ان سے پوچھا گیا: کیا آپ اپنے گھر والوں کو کوئی خط لکھیں گی؟ انہوں نے ان کے ہاتھ خط بھیجا (جس کی تصدیق کے بعد) لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت اور بڑھ گئی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ”جب میں نے زینب کو جنم دیا تو اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين، عبد الحميد بن عبد الله بن أبي عمرو والقاسم بن محمد - وهو ابن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام المخزومي - تفرَّد بالرواية عنهما حبيب بن أبي ثابت، وذكرهما ابن حبان في "الثقات"، فيتقوى أحدهما بالآخر.
درجۂ حدیث: یہ سند "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے۔ عبدالحمید بن عبداللہ بن ابی عمرو اور القاسم بن محمد (ابن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی)—ان دونوں سے روایت کرنے میں حبیب بن ابی ثابت منفرد ہیں، اور ابن حبان نے ان دونوں کو "الثقات" میں ذکر کیا ہے، لہٰذا یہ دونوں ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرتے ہیں۔
وأخرجه مطولًا بأوضح ممّا هنا أحمد (44/ 26619) و (26620)، والنسائي (8877)، وابن حبان (4065) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26619، 26620)، نسائی (8877) اور ابن حبان (4065) نے ابن جریج کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ طویل اور یہاں سے زیادہ واضح الفاظ میں روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے۔ عبدالحمید بن عبداللہ بن ابی عمرو اور القاسم بن محمد (ابن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی)—ان دونوں سے روایت کرنے میں حبیب بن ابی ثابت منفرد ہیں، اور ابن حبان نے ان دونوں کو "الثقات" میں ذکر کیا ہے، لہٰذا یہ دونوں ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرتے ہیں۔
وأخرجه مطولًا بأوضح ممّا هنا أحمد (44/ 26619) و (26620)، والنسائي (8877)، وابن حبان (4065) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26619، 26620)، نسائی (8877) اور ابن حبان (4065) نے ابن جریج کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ طویل اور یہاں سے زیادہ واضح الفاظ میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6921 سے ماخوذ ہے۔