کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کی وسعت اور فصاحتِ کلام کا ذکر
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا أبو سعيد محمد شاذان حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: ما رأيتُ أحدًا أعلمَ بالحلال والحرام والعلمِ والشِّعر والطِّبِّ من عائشةَ أمِّ المؤمنين (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6733 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6733 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے حلال و حرام، عمومی علم، شاعری اور طب (ڈاکٹری) کے شعبوں میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو بڑا عالم نہیں دیکھا۔“
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا بشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، عن الزُّهْري قال: لو جُمِعَ علمُ الناس كلِّهم، ثم علمُ أزواجِ النَّبِيِّ ﷺ، لكانت عائشةُ أوسعَهم عِلمًا (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6734 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6734 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
امام زہری سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر تمام لوگوں کا علم اور پھر نبی کریم ﷺ کی تمام ازواج مطہرات کا علم ایک جگہ جمع کر لیا جائے، تو یقیناً سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان سب میں علم کے لحاظ سے سب سے زیادہ وسیع ہوتیں۔“
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النَّضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا زائدة، حَدَّثَنَا عبد الملك بن عُمير، عن موسى بن طلحة قال: ما رأيتُ أحدًا أفصحَ من عائشةَ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح و بلیغ گفتگو کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔“
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثني أبو معاوية، عن الأعمش، عن مسلم، عن مسروق: أنه قِيلَ له: هل كانت عائشةُ تُحسِنُ الفرائضَ؟ قال: إي والذي نفسي بيده، لقد رأيتُ مشيخةَ أصحابِ محمدٍ ﷺ يسألونها عن الفرائض (3).
حافظ طلحہ بابر
مسروق سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وراثت کے احکام (فرائض) میں مہارت رکھتی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے محمد ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ ان سے وراثت کے مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا مُسَبِّح بن حاتم العُكْلي بالبصرة، حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمد بن حفص القرشي، حدثني حماد الأرقطَ، رجلٌ صالح، عن محمد بن عبد الرحمن زوج جَبْرة، عن ابن أبي مُليكة قال: قلنا لعائشة: تقولينَ الشِّعر وأنتِ ابنةُ الصدِّيق ولا تَبْلُتينَ (4)، وتقولين الطِّبَّ، فما علمُك فيه؟ فقالت: إنَّ النَّبِيّ ﷺ كان يَسقَهُ فتَفِدُ عليه وفودُ العرب، فيَصِفُون له فأحفظُ ذلك (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6737 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6737 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ آپ صدیق کی بیٹی ہیں، آپ اشعار کہتی ہیں اور ان کے مفہوم کو قطعیت کے ساتھ بیان کرتی ہیں، اور آپ طب (ڈاکٹری) کا بھی علم رکھتی ہیں، تو آپ کو یہ علم کیسے حاصل ہوا؟ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ اکثر بیمار رہا کرتے تھے، تو عرب کے مختلف وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور وہ آپ ﷺ کے لیے (علاج کے طور پر) مختلف چیزیں تجویز کرتے تھے، تو میں انہیں یاد کر لیا کرتی تھی۔