المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ سَعَةِ عِلْمِ عَائِشَةَ وَفَصَاحَةِ كَلَامِهَا باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کی وسعت اور فصاحتِ کلام کا ذکر
حدیث نمبر: 6884
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن النَّضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، حَدَّثَنَا زائدة، حَدَّثَنَا عبد الملك بن عُمير، عن موسى بن طلحة قال: ما رأيتُ أحدًا أفصحَ من عائشةَ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح و بلیغ گفتگو کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3884) عن القاسم بن دينار الكوفي، عن معاوية بن عمرو، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3884) نے القاسم بن دینار کوفی کے واسطے سے، انہوں نے معاویہ بن عمرو سے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وقال: حسن صحيح غريب.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث "حسن صحیح غریب" ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3884) عن القاسم بن دينار الكوفي، عن معاوية بن عمرو، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3884) نے القاسم بن دینار کوفی کے واسطے سے، انہوں نے معاویہ بن عمرو سے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وقال: حسن صحيح غريب.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث "حسن صحیح غریب" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6884 سے ماخوذ ہے۔