المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ سَعَةِ عِلْمِ عَائِشَةَ وَفَصَاحَةِ كَلَامِهَا باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کی وسعت اور فصاحتِ کلام کا ذکر
حدیث نمبر: 6882
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا أبو سعيد محمد شاذان حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عيسى بن يونس، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: ما رأيتُ أحدًا أعلمَ بالحلال والحرام والعلمِ والشِّعر والطِّبِّ من عائشةَ أمِّ المؤمنين (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6733 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے حلال و حرام، عمومی علم، شاعری اور طب (ڈاکٹری) کے شعبوں میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو بڑا عالم نہیں دیکھا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. محمد بن شاذان: هو النيسابوري الأصم.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: سند میں موجود راوی محمد بن شاذان سے مراد محمد بن شاذان نیشاپوری الاصم ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: سند میں موجود راوی محمد بن شاذان سے مراد محمد بن شاذان نیشاپوری الاصم ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6882 سے ماخوذ ہے۔