کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ نو خصوصیات جو کسی اور میں نہ تھیں
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا أبو الخطاب زياد بن يحيى الحَسَّاني، حَدَّثَنَا مالك بن سُعير، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي (2) الضحاك: أنَّ عبد الله بن صفوان أتى عائشةَ وآخرُ معه، فقالت عائشةُ لأحدِهما: أسمعتَ حديثَ حفصةَ يا فلان؟ قال: نعم يا أمَّ المؤمنين، فقال لها عبد الله بن صفوان وما ذاكِ يا أمَّ المؤمنين؟ قالت: خِلالٌ لي تسعٌ لم يكنَّ لأحدٍ من النِّساء قبلي إلَّا ما أتى اللهُ ﷿ مريمَ بنتَ عِمران، والله ما أقولُ هذا أنِّي أفخَرُ (3) على أحدٍ من صَواحباتي، فقال لها عبد الله بن صفوان: وما هُنَّ يا أمَّ المؤمنين؟ قالت: جاء المَلَكُ بصورتي إلى رسول الله ﷺ، فتزوَّجني (1) رسولُ الله وأنا ابنةُ سبعِ سنينَ، وأُهديتُ إليه وأنا ابنةُ تسعِ سنينَ، وتزوَّجني بِكرًا لم يَشْرَكهُ فيَّ أحدٌ من الناس، وكان يأتيه الوحيُ وأنا وهو في لِحافٍ واحد، وكنتُ من أحبِّ الناس إليه، ونزل فيَّ آياتٌ من القرآن كادت الأمّةُ تَهْلِكُ فيها، ورأيتُ جبريلَ ﵇ ولم يَرَه أحدٌ من نسائِه غيري، وقُبِضَ في بيتي لم يَلِهِ أحدٌ غيرُ المَلَك إلَّا أنا (2) (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6730 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6730 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ وہ اور ایک دوسرے شخص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک سے پوچھا: ”اے فلاں! کیا تم نے حفصہ کی بیان کردہ بات سنی ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے ام المؤمنین!“ تو عبداللہ بن صفوان نے پوچھا: ”وہ کیا بات ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میری نو ایسی خصوصیات ہیں جو میرے علاوہ کسی عورت کو نہیں دی گئیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران کو عطا فرمایا، اور اللہ کی قسم میں یہ اپنی کسی ساتھی پر فخر کے طور پر نہیں کہہ رہی: 1 فرشتہ میری تصویر لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، 2 آپ ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میں سات سال کی تھی، 3 میری رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی، 4 آپ ﷺ نے مجھ سے اس حال میں نکاح فرمایا کہ میں کنواری تھی اور میرے علاوہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہ تھا، 5 آپ ﷺ پر وحی اس وقت بھی نازل ہوتی جب میں اور آپ ﷺ ایک ہی لحاف میں ہوتے تھے، 6 میں آپ ﷺ کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی، 7 میری شان میں قرآن کی وہ آیات نازل ہوئیں جن کے معاملے میں قریب تھا کہ امت ہلاک ہو جاتی، 8 میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا جبکہ آپ ﷺ کی دیگر ازواج میں سے کسی نے انہیں نہیں دیکھا، اور 9 آپ ﷺ کی وفات میرے گھر میں ہوئی اور فرشتے کے علاوہ آپ ﷺ کے سب سے قریب اس وقت صرف میں ہی تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوْشَب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ﴾ [النور: 23] قال: نزلت في عائشةَ خاصةً (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6731 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6731 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ﴾ [سورة النور: 23] کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت خاص طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا الحسن بن مُكرَم ويحيى بن جعفر بن الزِّبْرَقان قالا: حَدَّثَنَا علي بن عاصم، حَدَّثَنَا خالد الحذَّاء، عن محمد بن سِيرِين، عن الأحنَف بن قيس قال: سمعتُ خطبةَ أبي بكر الصِّدِّيق، وعمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب والخلفاءِ هلُمَّ جرًّا إلى يومي هذا، فما سمعتُ الكلامَ من فمِ مخلوقٍ أفخمَ ولا أحسنَ منه مِن فِي عائشةَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6732 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6732 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد کے خلفاء کے خطبات آج کے دن تک مسلسل سنے ہیں، مگر میں نے کسی بھی انسان کے منہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کلام سے زیادہ پرشکوہ اور خوبصورت کلام نہیں سنا۔“