کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی ﷺ کے اہلِ بیت کا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا احترام کرنا
أخبرنا أبو العبّاس المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله (2) ابن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب قال: أولُ من قَدِمَ من المهاجرين مصعبُ بن عُمير، ثم قَدِمَ علينا بعدَه عمرو بن أم مَكْتوم الأعمى (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین میں سے سب سے پہلے جو ہمارے پاس (مدینہ) آئے وہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے، پھر ان کے بعد ہمارے پاس نابینا صحابی سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔
حدثنا جعفر بن نُصير الخُلْدي ﵀، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد القُدُّوس بن بكر بن خُنيس، حدثنا مِسعَر، عن أبي البِلاد، عن الشَّعبي قال: دخل (2) على عائشةَ وعندها ابنُ أم مكتوم وهي تُقطِّع له الأُترُجَّ فيأكلهُ بعسَلٍ، فقالت: ما زال هذا له من آل محمدٍ -ﷺ منذ عاتَبَ اللهُ فيه نبيَّه ﷺ. وإنما أرادت أمُّ المؤمنين عائشة ﵂ نزولَ سورة ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ (3).
حافظ طلحہ بابر
شعبی سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے پاس سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ موجود تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے لیے ترنج (چکوترا) کاٹ رہی تھیں جسے وہ شہد کے ساتھ کھا رہے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنے نبی ﷺ پر عتاب فرمایا ہے، تب سے آلِ محمد ﷺ کے ہاں ان کا یہی مقام و مرتبہ رہا ہے۔“ اور ام المؤمنین کی مراد سورت ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ [سورة عبس: 1] کا نزول تھا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا الحسين بن محمد القبَّاني وإبراهيم بن أبي طالب، قالا حدثنا أبو موسى، حدثنا أحمد بن بَشِير الهَمْداني، حدثنا أبو البِلاد، عن مسلم بن صُبيح [عن مسروق] (4) قال: دخلتُ على عائشة وعندَها رجلٌ مكفوفٌ، وهي تُقطِّع له الأُترُجَّ وتُطعِمه إيّاه بالعسَل، فقلتُ: من هذا يا أمَّ المؤمنين؟ فقالت: هذا ابنُ أمِّ مكتوم الذي عاتب الله ﵎ فيه نبيَّه ﷺ، قالت: أتَى النبيَّ ﷺ ابنُ أمِّ مكتوم وعندَه عُتبةُ وشَيْبة وأقبلَ رسول الله ﷺ عليهما، فنزلت: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى (1) أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى﴾؛ ابنُ أمِّ مكتوم (1).
حافظ طلحہ بابر
مسروق سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو وہاں ایک نابینا شخص بیٹھا تھا، اور وہ ان کے لیے ترنج کاٹ رہی تھیں اور انہیں شہد کے ساتھ کھلا رہی تھیں، میں نے پوچھا: اے ام المؤمنین! یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: «هذا ابنُ أمِّ مكتوم الذى عاتب الله ﵎ فيه نبيَّه ﷺ» وہ بیان کرتی ہیں کہ ابن ام مکتوم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ ﷺ کے پاس عتبہ اور شیبہ (قریش کے سردار) بیٹھے تھے، رسول اللہ ﷺ ان دونوں کی طرف متوجہ تھے، تو یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى (1) أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى﴾ [سورة عبس: 1-2] اور اس سے مراد ابن ام مکتوم ہیں۔
أخبرني عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد الخرَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا أبو سِنان، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي البَخْتري، عن ابن أمِّ مكتوم قال: خرجَ النبيُّ ﷺ ذاتَ غداةٍ فقال: "سُعِّرَتِ النارُ لأهل النار، وجاءتِ الفتنُ كقِطَعِ الليل المُظلِم، لو تعلمون ما أعلمُ لضحكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک صبح باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اہلِ نار کے لیے آگ بھڑکا دی گئی ہے، اور فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح آ پہنچے ہیں، اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“
أخبرنا أبو الطيِّب محمد بن عبد الله الشَّعيري، حدثنا مَحمِش بن عصام العَدْل، حدثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن عاصم، عن زِرّ بن حُبيش، عن عمرو بن أمِّ مكتوم قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: يا رسولَ الله، إني شيخٌ كبير ضريرُ البصر شاسعُ الدار، وليس لي قائدٌ يُلائمني، وبيني وبينَ المسجد شجرٌ وأنهارٌ، فهل لي من عُذر أن أصلِّي في بيتي؟ قال: "هل تسمعُ النِّداءَ؟ " قلت: نعم قال: "فأتِها" (1). قال الحاكم ﵀: لا أعلمُ أحدًا قال في هذا الإسناد: عن عاصم عن زِرّ، غير إبراهيم بن طَهْمان، وقد رواه زائدةُ وشَيبان النَّحوي وحماد بن سَلَمة وأبو عَوَانة وغيرُهم عن عاصم عن أبي رَزين عن ابن أمِّ مكتوم. أما حديثُ زائدة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک بوڑھا اور نابینا شخص ہوں، میرا گھر دور ہے اور میرا کوئی ایسا مددگار (قائد) نہیں جو میرے موافق ہو، میرے اور مسجد کے درمیان درخت اور نہریں بھی ہیں، تو کیا مجھے اس بات کی رخصت ہے کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟» ”کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: «فَأْتِهَا» ”تو پھر مسجد میں آؤ۔“
امام حاکم فرماتے ہیں: میری معلومات کے مطابق اس سند میں عاصم سے، انہوں نے زر (بن حبیش) سے، یہ روایت سوائے ابراہیم بن طہمان کے کسی نے بیان نہیں کی، جبکہ زائدہ، شیبان نحوی، حماد بن سلمہ اور ابوعوانہ وغیرہ نے اسے عاصم سے، انہوں نے ابورزین سے اور انہوں نے ابن ام مکتوم سے روایت کیا ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میری معلومات کے مطابق اس سند میں عاصم سے، انہوں نے زر (بن حبیش) سے، یہ روایت سوائے ابراہیم بن طہمان کے کسی نے بیان نہیں کی، جبکہ زائدہ، شیبان نحوی، حماد بن سلمہ اور ابوعوانہ وغیرہ نے اسے عاصم سے، انہوں نے ابورزین سے اور انہوں نے ابن ام مکتوم سے روایت کیا ہے۔
فحدَّثَناه أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية ابن عمرو، حدثنا زائدة، عن عاصم، عن أبي رَزين (2). وأما حديث شَيبان:
حافظ طلحہ بابر
زائدہ نے عاصم سے، انہوں نے ابورزین سے اور انہوں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے سابقہ روایت نقل کی ہے۔
فأخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر، حدثنا الحسن بن موسى الأشيب، حدثنا شَيبانُ، عن عاصم، عن أبي رَزين (1). وأما حديث حماد بن سَلَمة:
حافظ طلحہ بابر
شیبان نے عاصم سے، انہوں نے ابورزین سے اور انہوں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث روایت کی ہے۔
فحدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عَوانة، وحمادُ بن سَلَمة، عن عاصم، عن أبي رَزين (2). ذكرُ العلاء بن الحَضْرمي ﵁-
حافظ طلحہ بابر
حماد بن سلمہ اور ابوعوانہ نے عاصم سے، انہوں نے ابورزین سے (سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سابقہ روایت) نقل کی ہے۔