❮
❯
حدیث نمبر: 6815
حدثنا جعفر بن نُصير الخُلْدي ﵀، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد القُدُّوس بن بكر بن خُنيس، حدثنا مِسعَر، عن أبي البِلاد، عن الشَّعبي قال: دخل (2) على عائشةَ وعندها ابنُ أم مكتوم وهي تُقطِّع له الأُترُجَّ فيأكلهُ بعسَلٍ، فقالت: ما زال هذا له من آل محمدٍ -ﷺ منذ عاتَبَ اللهُ فيه نبيَّه ﷺ. وإنما أرادت أمُّ المؤمنين عائشة ﵂ نزولَ سورة ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ (3).
حافظ طلحہ بابر

شعبی سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے پاس سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ موجود تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے لیے ترنج (چکوترا) کاٹ رہی تھیں جسے وہ شہد کے ساتھ کھا رہے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنے نبی ﷺ پر عتاب فرمایا ہے، تب سے آلِ محمد ﷺ کے ہاں ان کا یہی مقام و مرتبہ رہا ہے۔“ اور ام المؤمنین کی مراد سورت ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ [سورة عبس: 1] کا نزول تھا۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6815
درجۂ حدیث محدثین: حسن بما بعده
تخریج حدیث «حسن بما بعده، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الشعبي لم يسمع من عائشة، بينهما فيما نُرى مسروق كما تقدم في التعليق السابق. مسعر: هو ابن كدام، وأبو البلاد: سماه البخاري في "التاريخ الكبير" 8/ 280: يحيى بن سليمان الغطفاني، وترجمه ابن أبي حاتم 9/ 160 فسمّاه يحيى بن ...» [ترقيم الرساله 6815] [ترقيم الشركة 6735]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا في النسخ الخطية، وفي "حلية الأولياء": "دخل رجلٌ"، ونُرى أنه الصواب، وفي "شعب الإيمان": "دخلنا"، ونراه خطأ أو تحريفًا، فالشعبي روايته عن عائشة مرسلة، ويغلب على ظننا أن هذا الرجل المبهم في رواية الشعبي والذي دخل على عائشة هو مسروق بن الأجدع كما سيأتي في التعليق على الرواية التالية عند المصنف، فمسروق من شيوخ الشعبي، قال أبو حاتم الرازي كما في "المراسيل" لابنه ص 159: الشعبي عن عائشة مُرسَل، إنما يُحدِّث عن مسروق عن عائشة. ولا سيما أن كِلا الطريقين يرويهما أبو البلاد، فيكون له فيهما شيخان: الشعبي كما في هذه الرواية، ومسلم بن صبيح كما في الرواية التالية، وكلاهما يرويه عن مسروق، والله تعالى أعلم.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ "حلیہ الاولیاء" میں "دخل رجل" (ایک شخص داخل ہوا) ہے اور یہی صواب معلوم ہوتا ہے، اور "شعب الایمان" میں "دخلنا" (ہم داخل ہوئے) ہے جو ہمارے نزدیک غلطی یا تحریف ہے، کیونکہ شعبی کی حضرت عائشہ سے روایت "مرسل" ہوتی ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ یہ مبہم شخص "مسروق بن الاجدع" ہیں جو شعبی کے استاد ہیں۔ ابو حاتم رازی کے مطابق (ابن ابی حاتم کی "المراسیل" ص 159) شعبی کی عائشہ سے روایت مرسل ہے، وہ مسروق کے واسطے سے عائشہ سے روایت کرتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ دونوں طرق ابو البلاد روایت کرتے ہیں جن کے یہاں دو شیوخ (شعبی اور مسلم بن صبیح) ہیں اور یہ دونوں مسروق سے روایت کرنے والے ہیں۔
(3) حسن بما بعده، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الشعبي لم يسمع من عائشة، بينهما فيما نُرى مسروق كما تقدم في التعليق السابق. مسعر: هو ابن كدام، وأبو البلاد: سماه البخاري في "التاريخ الكبير" 8/ 280: يحيى بن سليمان الغطفاني، وترجمه ابن أبي حاتم 9/ 160 فسمّاه يحيى بن أبي سليمان، ونقل عن ابن معين توثيقه.
درجۂ حدیث: مابعد والی روایت کی وجہ سے یہ "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے راویوں میں حرج نہیں مگر شعبی کا سماع عائشہ سے نہیں ہے، ہمارے خیال میں ان کے درمیان مسروق ہیں۔ مسعر سے مراد ابن کدام ہیں، اور ابو البلاد کا نام امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (8/ 280) میں "یحییٰ بن سلیمان الغطفانی" ذکر کیا ہے، جبکہ ابن ابی حاتم (9/ 160) نے ان کا نام یحییٰ بن ابی سلیمان لکھا ہے اور یحییٰ بن معین سے ان کی توثیق نقل کی ہے۔
وأخرجه أبو نعيم في "الحلية" 9/ 233، وكذا البيهقي في "شعب الإيمان" (7828) من طريق أبي بكر بن إسحاق الفقيه، كلاهما (أبو نعيم وأبو بكر) عن عبد الله بن أحمد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "الحلیہ" (9/ 233) میں اور بیہقی نے "شعب الایمان" (7828) میں ابو بکر بن اسحاق الفقیہ کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبد اللہ بن احمد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وانظر ما بعده، وما سلف برقم (3940).
نوٹ / توضیح: اس حوالے سے مابعد والی حدیث اور سابقہ حدیث نمبر (3940) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6815 سے ماخوذ ہے۔