کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُزوة، في تسمية من شَهِد بدرًا من الأنصار، ثم من بني بَيَاضة بن عامر بن زُريق بن عبد حارثة: زياد بن لَبِيد بن ثعلبة بن سِنان بن عامر بن عَديّ بن أُمية بن بَيَاضة.
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے انصار کے ان صحابہ کے ناموں کے تذکرہ میں جو غزوہ بدر میں شریک تھے، روایت ہے کہ بنو بیاضہ بن عامر بن زریق سے زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ بن بیاضہ بھی شامل تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6695M1
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6695M1]
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، في تسمية مَن شَهِدَ العَقبة من الأنصار، ثم من بني بَياضةَ: زياد بن لَبِيد، وقد شهد بدرًا
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب سے انصار کے ان صحابہ کے ناموں کے تذکرہ میں جو بیعت عقبہ میں شریک تھے، روایت ہے کہ بنو بیاضہ سے زیاد بن لبید بھی شامل تھے اور وہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6695M2
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6695M2]
حدثنا علي حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، يحيى بن إسحاق السَّيلَحيني (ح) وحدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا عيسى بن إبراهيم البِرَكي؛ قالا: حدثنا عبد العزيز بن مُسلم، حدثنا الأعمش، عن سالم بن أبي الجعد، عن زياد بن لَبيد الأنصاري، قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يحدِّث أصحابَه وهو يقول: "قد ذهب أوانُ العِلم"، قلتُ بأبي وأمِّي، كيف يذهبُ أوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤنا أبناءَهم إلى أن تقوم الساعة؟! قال: "ثَكِلَتك أمُّك يا ابن لَبيدٍ، إن كنتُ لَأراك أفقهَ أهل المدينة، أوَليس اليهودُ والنصارى يقرؤون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتفِعون منهما بشيء؟! " (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ سعد بن الرَّبيع الأنصاري ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم (کے رخصت ہونے) کا وقت آ گیا ہے“، میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کیسے رخصت ہو گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھاتے رہیں گے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن لبید! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، میں تو تمہیں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا، کیا یہودی اور نصرانی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن وہ ان سے ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
(اس کے بعد) سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6695M3
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6695M3]
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسوَد، عن عُرْوة، في تسمية المسلمين الذين بايعوا رسولَ الله ﷺ بالعَقَبة من الأنصار من بني الحارث بن الخَزْرج: سعدُ بن الرَّبيع بن عمرو بن أبي زُهير بن مالك بن امرئ القيس بن ثعلبة بن كعب بن الخَزرَج بن الحارث، وهو نقيبٌ، وقد شهد بدرًا.
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے انصار کے ان مسلمانوں کے ناموں کے تذکرہ میں جنہوں نے بیعت عقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، روایت ہے کہ بنو حارث بن خزرج سے سعد بن ربیع بن عمرو بن ابی زہیر بن مالک بن امرء القیس بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث شامل تھے، وہ نقیب تھے اور انہوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی تھی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6696
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6696] [ترقيم الشركة 6616]
أخبرني إسماعيل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جدِّي (2)، حدثنا إبراهيم ابن المنذر، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، في تسمية من استُشِهد يوم أحد من الأنصار من بني الحارث بن الخَزْرج: سعد بن الرَّبيع.
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب سے انصار کے ان شہداء کے ناموں کے تذکرہ میں جو غزوہ احد میں شہید ہوئے، روایت ہے کہ بنو حارث بن خزرج سے سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6697
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6697] [ترقيم الشركة 6617]
أخبرنا موسى بن إسماعيل بن القاضي، حدثنا أبي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إسماعيل بن قيس، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت، عن أمِّ سعد بنت سعد بن الربيع: أنها دخلت على أبي بكر الصِّدِّيق، فألقى لها ثوبَه حتى جلست عليه، فدخلَ عليه عمرُ بن الخطاب فقال: يا خليفةَ رسولِ الله، مَن هذه؟ قال: هذه بنتُ مَن هو خيرٌ منِّي ومنك، قال: ومَن هو خيرٌ منِّي ومنك إِلَّا رسولَ الله ﷺ؟ قال أبو بكر: رجلٌ قُبِضَ على عهِد رسول الله ﷺ تبوَّأ مَقعدَه من الجنة، وبقيتُ أنا وأنت (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر سعد القَرَظِ المُوذِّن ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6553 - بل إسماعيل ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
ام سعد بنت سعد بن ربیع سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو انہوں نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا: اے خلیفہ رسول! یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”رسول اللہ ﷺ کے علاوہ وہ کون ہے جو مجھ سے اور آپ سے بہتر ہو؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں (شہید ہو کر) وفات پا گیا اور جنت میں اپنا ٹھکانا بنا لیا، جبکہ میں اور تم (آزمائش کے لیے) باقی رہ گئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
(اس کے بعد) سیدنا سعد قرظ مؤذن رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6698
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ
تخریج حدیث «إسناده واهٍ، إسماعيل بن قيس» [ترقيم الرساله 6698] [ترقيم الشركة 6618] [ترقيم العلميه 6553]