حدیث نمبر: 6698
أخبرنا موسى بن إسماعيل بن القاضي، حدثنا أبي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إسماعيل بن قيس، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت، عن أمِّ سعد بنت سعد بن الربيع: أنها دخلت على أبي بكر الصِّدِّيق، فألقى لها ثوبَه حتى جلست عليه، فدخلَ عليه عمرُ بن الخطاب فقال: يا خليفةَ رسولِ الله، مَن هذه؟ قال: هذه بنتُ مَن هو خيرٌ منِّي ومنك، قال: ومَن هو خيرٌ منِّي ومنك إِلَّا رسولَ الله ﷺ؟ قال أبو بكر: رجلٌ قُبِضَ على عهِد رسول الله ﷺ تبوَّأ مَقعدَه من الجنة، وبقيتُ أنا وأنت (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر سعد القَرَظِ المُوذِّن ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6553 - بل إسماعيل ضعفوه
حافظ طلحہ بابر

ام سعد بنت سعد بن ربیع سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو انہوں نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی یہاں تک کہ وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا: اے خلیفہ رسول! یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”رسول اللہ ﷺ کے علاوہ وہ کون ہے جو مجھ سے اور آپ سے بہتر ہو؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ شخص جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں (شہید ہو کر) وفات پا گیا اور جنت میں اپنا ٹھکانا بنا لیا، جبکہ میں اور تم (آزمائش کے لیے) باقی رہ گئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
(اس کے بعد) سیدنا سعد قرظ مؤذن رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6698
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ
تخریج حدیث «إسناده واهٍ، إسماعيل بن قيس» [ترقيم الرساله 6698] [ترقيم الشركة 6618] [ترقيم العلميه 6553]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده واهٍ، إسماعيل بن قيس -وهو ابن سعد بن زيد بن ثابت الأنصاري- ضعيف منكر الحديث، وبه ضعفه الذهبي في "التلخيص". وأبوه قيس لم نقف له على ترجمة، فهو مجهول.
درجۂ حدیث: اس کی سند انتہائی کمزور (واہی) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسماعیل بن قیس (جو کہ اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید بن ثابت الانصاری ہیں) ضعیف اور "منکر الحدیث" راوی ہیں، امام ذہبی نے "التلخیص" میں انہیں اسی بنیاد پر ضعیف قرار دیا ہے۔ نیز ان کے والد قیس بن سعد کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) نہیں مل سکے، اس لیے وہ "مجہول" راوی ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (5401) -وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3134) - عن مصعب بن إبراهيم بن حمزة، عن أبيه، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (5401) میں روایت کیا - اور ان سے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (3134) میں نقل کیا ہے - یہ مصعب بن ابراہیم بن حمزہ کے طریق سے ہے، وہ اپنے والد سے اور وہ اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6698 سے ماخوذ ہے۔