المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثنا علي حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، يحيى بن إسحاق السَّيلَحيني (ح) وحدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا عيسى بن إبراهيم البِرَكي؛ قالا: حدثنا عبد العزيز بن مُسلم، حدثنا الأعمش، عن سالم بن أبي الجعد، عن زياد بن لَبيد الأنصاري، قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يحدِّث أصحابَه وهو يقول: "قد ذهب أوانُ العِلم"، قلتُ بأبي وأمِّي، كيف يذهبُ أوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤنا أبناءَهم إلى أن تقوم الساعة؟! قال: "ثَكِلَتك أمُّك يا ابن لَبيدٍ، إن كنتُ لَأراك أفقهَ أهل المدينة، أوَليس اليهودُ والنصارى يقرؤون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتفِعون منهما بشيء؟! " (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ سعد بن الرَّبيع الأنصاري ﵁-
سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم (کے رخصت ہونے) کا وقت آ گیا ہے“، میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کیسے رخصت ہو گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھاتے رہیں گے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن لبید! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، میں تو تمہیں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا، کیا یہودی اور نصرانی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن وہ ان سے ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
(اس کے بعد) سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔