❮
❯
حدیث نمبر: 6695
وحدثنا أبو العبَّاس، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان حدَّثه، عن محمد بن المنكدِر، أنَّ سَفينة مولى رسول الله ﷺ قال: ركبتُ البحرَ، فانكسرَت سفينتي التي كنتُ فيها، فركبتُ لوحًا من ألواحها، فطر حني اللوحُ (1) في أجَمَةٍ فيها الأسدُ، فأقبل إليَّ يُريدني، فقلتُ: يا أبا الحارث، أنا مولى رسول الله، فطأطأَ رأسَه وأقبل إليَّ فدفعني بمَنكِبِه حتى أخرجني من الأجَمَة ووَضَعَني على الطريق، وهمهَمَ، فظننتُ أنه يُودِّعني، فكان ذلك آخرَ عهدي به (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. ذكر زياد بن لَبِيد الأنصاري ﵁- (3
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6550 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سمندر میں سفر کر رہا تھا کہ میری کشتی ٹوٹ گئی، میں اس کے ایک تختے پر سوار ہو گیا، اس تختے نے مجھے ایک ایسی جھاڑی میں پھینک دیا جہاں شیر رہتا تھا، وہ شیر میری طرف بڑھا تو میں نے کہا: ”اے ابوالحارث (شیر کی کنیت)! میں رسول اللہ ﷺ کا غلام ہوں“، تو اس نے اپنا سر جھکا لیا اور میری طرف آیا، اس نے اپنے کندھے سے مجھے دھکا دے کر جھاڑی سے باہر نکالا اور مجھے راستے پر لا کھڑا کیا، پھر وہ دھیمی آواز میں غرایا، میرا خیال ہے کہ وہ مجھے الوداع کہہ رہا تھا، یہ میرا اس کے ساتھ آخری واسطہ تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (اس کے بعد) سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔

أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُزوة، في تسمية من شَهِد بدرًا من الأنصار، ثم من بني بَيَاضة بن عامر بن زُريق بن عبد حارثة: زياد بن لَبِيد بن ثعلبة بن سِنان بن عامر بن عَديّ بن أُمية بن بَيَاضة.
حافظ طلحہ بابر

عروہ سے انصار کے ان صحابہ کے ناموں کے تذکرہ میں جو غزوہ بدر میں شریک تھے، روایت ہے کہ بنو بیاضہ بن عامر بن زریق سے زیاد بن لبید بن ثعلبہ بن سنان بن عامر بن عدی بن امیہ بن بیاضہ بھی شامل تھے۔

أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، في تسمية مَن شَهِدَ العَقبة من الأنصار، ثم من بني بَياضةَ: زياد بن لَبِيد، وقد شهد بدرًا
حافظ طلحہ بابر

ابن شہاب سے انصار کے ان صحابہ کے ناموں کے تذکرہ میں جو بیعت عقبہ میں شریک تھے، روایت ہے کہ بنو بیاضہ سے زیاد بن لبید بھی شامل تھے اور وہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے۔

حدثنا علي حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، يحيى بن إسحاق السَّيلَحيني (ح) وحدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا عيسى بن إبراهيم البِرَكي؛ قالا: حدثنا عبد العزيز بن مُسلم، حدثنا الأعمش، عن سالم بن أبي الجعد، عن زياد بن لَبيد الأنصاري، قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يحدِّث أصحابَه وهو يقول: "قد ذهب أوانُ العِلم"، قلتُ بأبي وأمِّي، كيف يذهبُ أوانُ العلم ونحن نقرأُ القرآنَ ونعلِّمه أبناءَنا، ويعلِّمُه أبناؤنا أبناءَهم إلى أن تقوم الساعة؟! قال: "ثَكِلَتك أمُّك يا ابن لَبيدٍ، إن كنتُ لَأراك أفقهَ أهل المدينة، أوَليس اليهودُ والنصارى يقرؤون التوراةَ والإنجيلَ ولا يَنتفِعون منهما بشيء؟! " (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. ذكرُ سعد بن الرَّبيع الأنصاري ﵁-
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ اپنے صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”علم (کے رخصت ہونے) کا وقت آ گیا ہے“، میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، علم کیسے رخصت ہو گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو قیامت تک پڑھاتے رہیں گے؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن لبید! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، میں تو تمہیں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار سمجھتا تھا، کیا یہودی اور نصرانی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن وہ ان سے ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
(اس کے بعد) سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6695
درجۂ حدیث محدثین: صحيح إن صحَّ سماعُ محمد بن المنكدر له من سفينة
تخریج حدیث «صحيح إن صحَّ سماعُ محمد بن المنكدر له من سفينة، وهو الراجح، وهذا إسناد لا بأس برجاله. وسلف الكلام عليه مفصلًا برقم (4281).» [ترقيم الرساله 6695] [ترقيم الشركة 6615] [ترقيم العلميه 6550]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في: (م) فطرحني الموج، وفي (ص): وطرح بي الموج. والمثبت من (ب).
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) میں "فطرحني الموج" (موج نے مجھے پھینک دیا) اور نسخہ (ص) میں "وطرح بي الموج" کے الفاظ ہیں، جبکہ متن میں نسخہ (ب) کے الفاظ ثابت کیے گئے ہیں۔
(2) صحيح إن صحَّ سماعُ محمد بن المنكدر له من سفينة، وهو الراجح، وهذا إسناد لا بأس برجاله. وسلف الكلام عليه مفصلًا برقم (4281).
درجۂ حدیث: اگر محمد بن المنکدر کا حضرت سفینہ سے سماع ثابت ہو جائے تو یہ حدیث صحیح ہے، اور راجح بات یہی ہے کہ سماع ثابت ہے۔ اس سند کے راویوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اہم نکتہ: اس پر تفصیلی کلام رقم (4281) پر گزر چکا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (6432) -وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (3511) - من طريق أحمد بن صالح، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 45 من طريق يوسف بن عدي، كلاهما عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (6432) میں روایت کیا - اور ان سے ابو نعیم نے "معرفت الصحابہ" (3511) میں نقل کیا - یہ احمد بن صالح کے طریق سے ہے۔ نیز بیہقی نے "دلائل النبوہ" (6/ 45) میں یوسف بن عدی کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 45، وفي "الاعتقاد" ص 316 من طريق جعفر بن عون، عن أسامة بن زيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "دلائل النبوہ" (6/ 45) اور اپنی کتاب "الاعتقاد" (ص 316) میں جعفر بن عون کے طریق سے، انہوں نے اسامہ بن زید سے اور انہوں نے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "أجَمة" هي: المكان الكثير الشّجر.
نوٹ / توضیح: حدیث میں مذکور لفظ "أجَمة" سے مراد وہ جگہ ہے جہاں درختوں کی کثرت ہو (جھاڑی دار گھنا جنگل)۔
(3) تقدَّم ذكرُ المصنف لزياد بن لبيد هذا بالأرقام (6642) و (6643).
اہم نکتہ: مصنف نے ان صاحبِ روایت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کا ذکر پہلے رقم (6642) اور (6643) پر کر دیا ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن سالم بن أبي الجعد لم يسمع من زياد. وسلف برقمي (343) و (6643).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، فنی نکتہ / علّت: البتہ سالم بن ابی الجعد کا حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے (سند منقطع ہے)۔
اہم نکتہ: یہ روایت پہلے رقم (343) اور (6643) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6695 سے ماخوذ ہے۔