کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ کا سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ سے دو وجوہ سے محبت کرنا
فحَدَّثَنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا عيسى بن عبد الرحمن السُّلَمي، عن أبي إسحاق: أنَّ رسول الله ﷺ قال لعَقِيل بن أبي طالب: "يا أبا يزيدَ، إني أُحبُّك حُبَّين: حبًّا لقَرابَتِك منّي، وحبًا لما كنتُ أعلمُ من حبِّ عمِّي إِيَّاكَ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6464 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابواسحاق سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابویزید! میں تم سے دو وجہ سے محبت کرتا ہوں: ایک میری تمہارے ساتھ قرابت داری کی وجہ سے اور دوسری اس محبت کی وجہ سے جو میرے چچا کو تم سے تھی، جس کا مجھے علم ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6607
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لإرساله
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لإرساله، فأبو إسحاق» [ترقيم الرساله 6607] [ترقيم الشركة 6528] [ترقيم العلميه 6464]
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الجرَّاحي بمَرْوِ، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ، حدثنا محمد بن علي، حدثنا إبراهيم بن رُستُم، حدثنا أبو حمزة، عن يزيد، عن عبد الرحمن بن سابِطٍ، عن حُذَيفة قال: كان النبي ﷺ يقول لعَقيلٍ: "إني لأحبُّكَ يا عَقيلُ حُبَّينِ: حبًّا لك، وحبًّا لحبِّ أبي طالب إيَاكَ" (3). بيانُ هذين الحديثين في الحديث الذي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ سے فرمایا کرتے تھے: ”اے عقیل! میں تم سے دو وجہ سے محبت کرتا ہوں: ایک تمہاری ذات کی وجہ سے، اور دوسری اس محبت کی وجہ سے جو ابوطالب کو تم سے تھی۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6608
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف مضطرب
تخریج حدیث «إسناده ضعيف مضطرب، يزيد إن كان محفوظًا هنا هو ابن أبي زياد الهاشمي مولاهم، وهو ضعيف رديء الحفظ، وقد رواه إبراهيم بن محمد بن يوسف الفريابي عند ابن عساكر عن علي بن الحسن عن إبراهيم بن رستم عن أبي حمزة - وهو محمد بن ميمون السكري- عن جابر بن يزيد ...» [ترقيم الرساله 6608] [ترقيم الشركة 6529]
حدَّثَناهُ أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد، حدثنا محمد بن عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا يونس بن أرقَمَ، حدثنا هارون بن سعد، عن زيد بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن جدِّه قال: أَشْرَفَ رسول الله ﷺ من بيتٍ ومعه عمَّاهُ العبّاس وحمزةُ، وعليٌّ وجعفرٌ وعَقيلٌ هم في أرضٍ يعملون فيها، فقال رسول الله ﷺ: لعمَّيهِ: "اختارا مِن هؤلاء"، فقال أحدهما: اخترتُ جعفرًا، وقال الآخر: اخترتُ عَقِيلًا (1)، فقال: "خيَّرتُكُما فاختَرتُما، فاختارَ الله لي عليًّا (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن حسین اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مکان سے جھانکے جبکہ آپ کے ساتھ آپ کے دونوں چچا سیدنا عباس اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہما تھے، اور سیدنا علی، سیدنا جعفر اور سیدنا عقیل رضی اللہ عنہم ایک زمین میں کام کر رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں چچاوں سے فرمایا: ”ان میں سے (کفالت کے لیے) انتخاب کر لیں،“ تو ایک نے جعفر کو چن لیا اور دوسرے نے عقیل کو، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں نے انتخاب کر لیا ہے، اور اللہ نے میرے لیے علی کا انتخاب فرمایا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6609
درجۂ حدیث محدثین: منكر وإسناده ضعيف
تخریج حدیث «منكر وإسناده ضعيف، محمد بن عثمان بن أبي شيبة فيه مقال وبعضهم اتهمه بالكذب، ويونس بن أرقم قال فيه ابن خِراش: ليّن الحديث، وقال البزار في "مسنده" (507): كان صدوقًا فيه شيعية شديدة، وذكره في "ثقاته".» [ترقيم الرساله 6609] [ترقيم الشركة 6530]
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى معاذ بن المثنَّى العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي سُوَيد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا طَلْحة بن يحيى، عن موسى بن طَلحة، أخبرني عَقِيل بن أبي طالب قال: جاءت قريشٌ إلى أبي طالب فقالوا: إنَّ ابنَ أخيك يُؤذينا في نادِينا وفي مَجلِسِنا، فانهَهُ عن أَذانا، فقال لي: يا عَقيلُ، ائتِ محمدًا، قال: فانطلقتُ إليه فأخرجتُه من حِفْش (1) - قال طلحة: بيتٌ صغيرٌ - فجاء في الظُّهر من شدّة الحرِّ، فجعل يطلب الفَيْءَ يمشي فيه من شدّة حرِّ الرَّمْضاء، فأتيناهم، فقال أبو طالب: إِنَّ بَنِي عمّك زعموا أنك تُؤْذيهم في نادِيهِم وفي مَجلسِهم، فانْتَهِ عن ذلك، فحَلَّقَ رسولُ الله ﷺ ببصره إلى السماء، فقال: "ما تَرَونَ هذه الشمسَ؟ " قالوا: نعم، قال: "ما أنا بأقدَرَ على أنْ أدَعَ ذلك منكم على أنْ تُشعِلوا منها شُعْلةً"، فقال أبو طالب: ما كَذَبَنا ابن أخي قطُّ، فارجِعُوا (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: آپ کا بھتیجا ہمیں ہماری محفلوں اور مجلسوں میں تکلیف پہنچاتا ہے، اسے ہمیں ایذا دینے سے روکیں، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے عقیل! محمد ﷺ کو بلا لاؤ، وہ کہتے ہیں کہ میں آپ کے پاس گیا اور آپ کو ایک چھوٹے سے گھر سے نکالا، آپ ﷺ دوپہر کے وقت شدید گرمی میں تشریف لائے اور تپتی زمین کی تپش کی وجہ سے سائے کی تلاش میں چل رہے تھے، جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو ابوطالب نے کہا: تمہارے چچا زاد بھائیوں کا دعویٰ ہے کہ تم انہیں ان کی محفلوں اور مجلسوں میں تکلیف پہنچاتے ہو، لہٰذا اس سے باز آ جاؤ، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”کیا تم اس سورج کو دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کام کو چھوڑنے پر اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا جتنا تم اس بات پر کہ تم اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ روشن کر لو،“ ابوطالب نے (قریش سے) کہا: میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، لہٰذا تم واپس چلے جاؤ۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6610
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل طلحة بن يحيى: وهو ابن طلحة بن عبيد الله ابنُ أخي موسى بن طلحة.» [ترقيم الرساله 6610] [ترقيم الشركة 6531]
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أَبي، حدثنا زُهير، حدثنا الحسن بن دينار، عن الحسن قال: قَدِمَ علينا عَقِيلُ بن أبي طالب، فتزوج امرأةٌ من جُشَم (3) بن سعد، فَدَخَلَ بها ثم خَرَجَ، فقالوا له: بالرِّفَاءِ والبَنينَ، فقال: لا تقولوا هذا، فإنَّ رسول الله ﷺ نَهَى أن نقول: بالرِّفاءِ والبَنِينَ (4) [وأَمَرنا أن نقول]: "بارَكَ اللهُ لك، وبارَكَ عليك" (1). ذكر معقل بن يَسَار المُزني ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری سے روایت ہے کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور بنو جشم بن سعد کی ایک خاتون سے نکاح کیا، جب وہ نکاح کے بعد باہر آئے تو لوگوں نے انہیں زمانہ جاہلیت کی دعا دیتے ہوئے کہا: ”اللہ نباہ کرے اور بیٹے عطا کرے،“ تو انہوں نے فرمایا: یہ نہ کہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس طرح کہنے سے منع فرمایا ہے اور ہمیں یہ کہنے کا حکم دیا ہے: «بَارَكَ اللهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ» ”اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے اور تم پر برکت نازل فرمائے۔“
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کا ذکر۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6611
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحسن بن دينار، لكنه متابع، والحسن» [ترقيم الرساله 6611] [ترقيم الشركة 6532]