حدیث نمبر: 6606
أخبرنا أبو محمد الحسنُ بن محمد بن يحيى بن الحسن ابنُ أخي أبي طاهرٍ العَقِيقيّ، حدثني جدِّي يحيى بن الحسن، حدثني عَبْد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، حدثنا أَبي، حدثني يحيى بن محمد بن عبَّاد بن هانئ الشَّجَري، عن محمد بن إسحاق، حدثني ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد بن جَبر أبي الحجَّاج: كان من نِعَمِ الله على عليِّ ابن أبي طالب ما صَنَعَ الله له وأرادَه به من الخير؛ أنَّ قريشًا أصابتهم أزمةٌ شديدةٌ، وكان أبو طالب في عِيالٍ كثير، فقال رسول الله ﷺ لعِّمه العبّاس، وكان من أيسَرِ بني هاشم: "يا أبا الفَضْل، إنَّ أخاك أبا طالبٍ كثيرُ العِيَال، وقد أصاب الناسَ ما تَرَى من هذه الأَزْمة، فانطَلِقْ بنا إليه نُخفِّفْ عنه من عيالِه، أَخُذُ من بَنيه رجلًا وتأخذُ أنت رجلًا، فنكفُلُهما عنه" فقال العبّاس: نعم، فانطَلَقا حتى أتَيا أبا طالبٍ فقالا: إنا نريدُ أن نُخفِّفَ عنك من عِيالِك حتى يَنكشِفَ عن الناس ما هم فيه، فقال لهما أبو طالب: إذا تركتُما لي عَقيلًا فاصنَعَا ما شئتُما، فَأَخَذَ رسول الله ﷺ عليًّا فضَمَّه إليه، وأَخَذَ العبّاس جعفرًا فضَمَّه إليه، فلم يَزَلْ عليٌّ مع رسول الله ﷺ حتى بَعَثَه الله نبيًّا فَاتَّبَعَه وصَدَّقه، وأخذ العبّاس جعفرًا، ولم يَزَلْ جعفرٌ مع العباس حتى أسلمَ واستَغْنى عنه (1).
حافظ طلحہ بابر

مجاہد بن جبر ابوالحجاج سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور ان کے لیے خیر کے ارادے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ قریش سخت قحط کا شکار ہوئے اور ابوطالب عیال دار (زیادہ بچوں والے) تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا (جو بنو ہاشم میں سب سے زیادہ مالدار تھے): ”اے ابوالفضل! آپ کے بھائی ابوطالب کے اہل و عیال زیادہ ہیں اور لوگوں پر یہ سخت وقت آ پڑا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، پس آئیے ان کے پاس چلیں اور ان کے عیال کا بوجھ بانٹیں، میں ان کے بیٹوں میں سے ایک کو اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور ایک کو آپ رکھ لیں، ہم ان کی کفالت کر لیں گے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حامی بھر لی، وہ دونوں ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: ”ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے اہل خانہ کا بوجھ ہلکا کریں یہاں تک کہ لوگوں کی یہ مشکل ٹل جائے۔“ ابوطالب نے ان سے کہا: ”اگر تم میرے پاس عقیل کو رہنے دو تو پھر جو چاہو کرو۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے جعفر کو اپنے ساتھ لے لیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلسل رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا تو انہوں نے آپ کی اتباع اور تصدیق کی، اور سیدنا عباس نے جعفر کو اپنے پاس رکھا اور وہ مسلسل ان کے ساتھ رہے یہاں تک کہ وہ اسلام لائے اور ان سے مستغنی (آزاد) ہو گئے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6606
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف يحيى بن محمد بن عباد الشجري
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف يحيى بن محمد بن عباد الشجري، ومَن دونه، إلَّا أنهم توبعوا عن محمد بن إسحاق صاحب السيرة، لكن تبقى علَّة الخبر إرساله، فإنَّ مجاهد بن جبر تابعي ولم يبيّن ممن سمع هذا الخبر.» [ترقيم الرساله 6606] [ترقيم الشركة 6527]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف يحيى بن محمد بن عباد الشجري ومَن دونه؛ إلَّا أنهم توبعوا عن محمد بن إسحاق صاحب السيرة، لكن تبقى علَّة الخبر إرساله، فإنَّ مجاهد بن جبر تابعي ولم يبيّن ممن سمع هذا الخبر.
درجۂ حدیث: یحییٰ بن محمد الشجری اور ان کے نچلے راویوں کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اگرچہ محمد بن اسحاق (صاحبِ سیرت) سے ان کی متابعت موجود ہے، مگر اس روایت کی اصل علت اس کا "مرسل" ہونا ہے، کیونکہ مجاہد بن جبر تابعی ہیں اور انہوں نے واضح نہیں کیا کہ یہ خبر کس سے سنی۔
فقد رواه كرواية المصنف الطبري في "تاريخه" 2/ 313 عن محمد بن حميد الرازي، عن سلمة ابن الفضل، عن محمد بن إسحاق، به.
حوالہ / مصدر: مصنف کی روایت کی طرح امام طبری نے بھی اپنی "تاریخ" (2/ 313) میں محمد بن حمید الرازی عن سلمہ بن الفضل عن محمد بن اسحاق کے طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الدلائل" 2/ 161 - 162 من طريق عمار بن الحسن، عن سلمة بن الفضل، به مختصرًا دون قصة جعفر وعقيل.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "الدلائل" (2/ 161-162) میں عمار بن الحسن کے طریق سے سلمہ بن الفضل سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے، جس میں حضرت جعفر اور عقیل کا قصہ موجود نہیں ہے۔
ورواه بتمامه أيضًا زياد البكّائي عن ابن إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 246.
حوالہ / مصدر: اسے مکمل طور پر زیاد البکائی نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 246) میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6606 سے ماخوذ ہے۔